سعودی عرب کی عازمین کو حج کے جعلی پیکجز اور پیشکشوں سے بچنے کی ہدایت، باضابطہ پرمٹ کا حصول لازمی قرار

سعودی عرب کی عازمین کو حج کے جعلی پیکجز اور پیشکشوں سے بچنے کی ہدایت، باضابطہ پرمٹ کا حصول لازمی قرار

مکہ مکرمہ۔16مئی (اے پی پی):سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے دنیا بھر سے آنے والے عازمین کے لیے ایک بار پھر اہم ترین ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف اور صرف قانونی ’’حج ویزا‘‘ ہی مشاعرِ مقدسہ میں داخلے کا واحد مجاز طریقہ ہے اور کسی بھی دوسرے ویزے یا غیر قانونی پرمٹ پر حج کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ سعودی حکام نے غیر قانونی طور پر مناسکِ حج کی ادائیگی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سخت گیر اقدامات ایک ایسے وقت میں نافذ کیے جا رہے ہیں جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمینِ حج کے ضابطے، سیکیورٹی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے اپنی پٹرولنگ اور فیلڈ آپریشنز کو مزید سخت کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ حج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لازمی پرمٹ پالیسی کا مقصد مملکت کے اس جامع سیکیورٹی اور انتظامی فریم ورک کو برقرار رکھنا ہے جس کے تحت لاکھوں عازمین کو بیک وقت معیاری طبی، سفری اور رہائشی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس نظام میں کسی بھی قسم کی رخنہ اندازی عازمین کے مجموعی امن و امان کو متاثر کر سکتی ہے۔اسی سلسلے میں، سعودی حکام نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حج کے سستے یا فوری پیکیجز دینے والے جعلی ایجنٹوں اور غیر رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

زائرین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی رقوم اور دستاویزات صرف اپنے ممالک کے سرکاری کوٹے یا سعودی عرب کے تصدیق شدہ آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے کریں۔رپورٹ کے مطابق، مناسکِ حج کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں پر تفتیشی چوکیاں (چیک پوائنٹس) قائم کر دی گئی ہیں تاکہ بغیر پرمٹ کے شہر میں داخل ہونے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروا کر ہی عازمینِ حج کو ایک محفوظ، پرسکون اور روحانی ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔