اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):آواز سی ڈی ایس پاکستان نے لاہور میں ویمن پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) پنجاب کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس میں زیورِ تعلیم پروگرام (زیڈ ٹی پی) کے جائزہ نتائج پیش کرتے ہوئے پنجاب میں بچیوں کی ثانوی تعلیم کے فروغ کے لیے پروگرام کی فوری بحالی پر زور دیا۔اجلاس میں ویمن پارلیمانی کاکس کی 12 اراکین نے شرکت کی جہاں پروگرام کے اثرات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔آواز سی ڈی ایس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ضیاء الرحمان نے کہا کہ جائزہ رپورٹ کے مطابق زیورِ تعلیم پروگرام نے پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کے شعبے میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ رپورٹ کے مطابق پروگرام سے منسلک اسکولوں میں داخلوں کی شرح 18 فیصد زیادہ، پانچویں سے چھٹی جماعت میں منتقلی کی شرح 17 فیصد بہتر جبکہ طالبات کی حاضری 41 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام نےطالبات کے اعتماد، تعلیمی استعداد اور تعلیم مکمل کرنے کے رجحان میں بھی مثبت اثرات مرتب کیے۔ جائزے کے مطابق خواندگی کی تیاری میں 8 پوائنٹس، تعلیم مکمل کرنے کے اعتماد میں 18 پوائنٹس اور ثانوی تعلیم مکمل کرنے کی شرح میں 10 پوائنٹس اضافہ دیکھا گیا۔ضیاء الرحمان نے کہا کہ پروگرام نے بچیوں کی سماجی و معاشی خودمختاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جائزہ رپورٹ میں مستفید طالبات کی سالانہ آمدن میں تقریباً 58 ہزار روپے اضافے، شادی کی اوسط عمر میں 1.74 سال تاخیر اور سروس سیکٹر میں ملازمت کے رجحان میں 35 پوائنٹس اضافے کی نشاندہی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جون 2025 سے مختلف علاقوں میں پروگرام کی معطلی کے باعث ہزاروں مستحق طالبات وظائف سے محروم ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پروگرام بحال کیا جائے اور تمام زیر التوا وظائف جاری کیے جائیں۔ویمن پارلیمانی کاکس پنجاب کی اراکین نے بھی پروگرام کی معطلی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور اس معاملے کو اسمبلی کے فورم پراٹھایا جائے گا۔آواز سی ڈی ایس پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہنگائی کے پیش نظر ماہانہ وظیفہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر تین ہزار روپے کیا جائے۔
ادارے نے پروگرام کو موجودہ 17 اضلاع سے بڑھا کر کم شرح خواندگی والے دیگر علاقوں تک توسیع دینے کی سفارش بھی کی۔اجلاس کے اختتام پر پروگرام کی فوری بحالی، زیر التوا وظائف کی ادائیگی، وظیفے میں اضافے اور مزید اضلاع تک توسیع کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔