رپورٹ نمایندہ نوائے وقت جاوید اقبال بٹ
اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر روٹ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت پہلی حج پرواز کی روانگی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و حج سردار محمد یوسف نے حجاج کرام کے لیے اس سال فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس سال سرکاری حج اسکیم کے تحت مدینہ منورہ میں ایک لاکھ 19 ہزار عازمین حج کو 100 فیصد مسجد نبوی ﷺ کے قرب و جوار میں رہائش فراہم کی جائے گی، جو ایک بڑا اور غیر معمولی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 ہزار حجاج کرام کو مکہ اور مدینہ کے درمیان حرمین ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے سفر کی سہولت دی جائے گی، جس کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جس سے سفر نہایت آسان اور تیز ہو جائے گا۔ سردار یوسف نے مکہ مکرمہ میں رہائش اور منیٰ و عرفات میں انتظامات کو بھی بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام کے لیے اعلیٰ معیار کی سہولیات یقینی بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام کی خدمت اور سہولت کے لیے سعودی حکومت کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ اس سال حجاج کرام کو مفت موبائل سم فراہم کی جائے گی، جس میں 40 جی بی ڈیٹا اور 600 منٹ لوکل و انٹرنیشنل کالز شامل ہوں گی۔ انہوں نے سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکڑ توفیق بن فوزان الربیعہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے کراچی اور اسلام آباد روٹ ٹو مکہ منصوبے میں شامل تھے، تاہم پاکستان کی درخواست پر سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی خصوصی دلچسپی سے اس سال لاہور کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا، جہاں حجاج کرام کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس پہلے ہی مکمل ہو جاتی ہے۔ سردار یوسف نے اپنے خطاب میں وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی امن کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور امن کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ وہ سعودی عرب کے قوانین کا مکمل احترام کریں اور اپنی دعاؤں میں پاکستان اور سعودی عرب کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کریں