اسلام آباد۔15مئی (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ماہر ڈاکٹر طیب شاہ نے کہا ہے کہ رواں سال مون سون کے دوران پاکستان میں نمایاں علاقائی تضاد دیکھنے میں آ سکتا ہے جہاں مجموعی طور پر مون سون نسبتاً کمزور رہنے کا امکان ہے تاہم پہلے مرحلے میں شمالی پاکستان اور بالائی کیچمنٹ علاقوں میں موسمی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ متحرک رہ سکتی ہیں جبکہ جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشیں کم اور شدید گرمی کی صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 25 جون سے جولائی کے پہلے نصف تک بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی دریائے سندھ کے کیچمنٹ علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشوں، گلیشیئر پگھلاؤ اور مقامی موسمی سرگرمیوں کے امکانات موجود ہیں، جس کے باعث بعض مقامات پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شمالی کیچمنٹ علاقوں میں کسی مضبوط بارشی سلسلے یا اچانک بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تو گلیشیائی پگھلاؤ کے ساتھ مل کر یہ صورتحال اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودوں کے بہاؤ جیسے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ڈاکٹر طیب شاہ نے کہا کہ جنوبی اور وسطی پاکستان، خصوصاً زیریں سندھ، جنوبی پنجاب اور بعض مشرقی علاقوں میں روایتی مون سون بارشیں کم جبکہ شدید گرمی اور گرمی کی لہر جیسی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے دریائے راوی سے متعلق کہا کہ پونگ ڈیم میں پانی کی سطح پہلے ہی تقریباً ستر فیصد تک پہنچ چکی ہے، لہٰذا اگر راوی کے بالائی کیچمنٹ میں کوئی مضبوط بارشی نظام تشکیل پاتا ہے تو دریا میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ملحقہ نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بالائی دریائے سندھ کے کیچمنٹ علاقوں میں گلیشیائی پگھلاؤ اور وقفے وقفے سے بارشوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے کیونکہ مختصر دورانیے کی بارش بھی بعض علاقوں میں سیلابی خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔ڈاکٹر طیب شاہ نے سیاحوں، مقامی آبادی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ موسمی اپ ڈیٹس پر مسلسل نظر رکھیں اور شمالی حساس علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔