اسلام آباد۔25مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی فوجداری مقدمے میں ملزم کا کردار دستاویزی شواہد سے متعلق ہو اور شریک ملزمان پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہوں تو مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش کے دائرے میں آ سکتا ہے جبکہ یکساں کردار رکھنے والے ملزم کو ضمانت کی رعایت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور پائپس میں خورد برد کے مقدمے میں گرفتار سٹور سپروائزر محمد عثمان یوسف کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 2013ء سے 2023ء کے دوران ایس این جی پی ایل کے مختلف اہلکاروں نے مبینہ طور پر ملی بھگت سے منگا بیس سٹور سے 245 کلومیٹر سے زائد ایم ایس اور پی ای پائپس غائب کیے جس سے قومی خزانے کو تقریباً 36 کروڑ 66 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم بطور سٹور سپروائزر مواد جاری کرنے کا حتمی اختیار نہیں رکھتا تھا اور مقدمہ مکمل طور پر سٹاک رجسٹرز، لیجرز اور آڈٹ ریکارڈ جیسے دستاویزی شواہد پر مبنی ہے جن کی مکمل جانچ صرف ٹرائل کے دوران ممکن ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شریک ملزمان جن کے انتظامی اختیارات زیادہ تھے، پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بادی النظر میں استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ درخواست گزار کا کردار دیگر شریک ملزمان سے زیادہ سنگین یا مختلف تھا۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ یہ تعین کرنا کہ ملزم کے پاس فیصلہ کن اختیار تھا یا وہ صرف انتظامی ہدایات پر عمل کر رہا تھا، شواہد ریکارڈ ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گا۔عدالت نے پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں اور ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر آزادانہ طور پر کرے گی۔