خلائی پرواز کا عالمی دن ، خلائی سنگ میلوں پر پاکستان کی ٹیک ایجادات کو سلام

خلائی پرواز کا عالمی دن ، خلائی سنگ میلوں پر پاکستان کی ٹیک ایجادات کو سلام

اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):پہلی انسانی خلائی پرواز کے عالمی دن کے موقع پرانجینئرنگ ڈائریکٹر سپارکو شہنیلہ طارق نے پائیدار ترقی کے لیے خلائی سائنس کو بروئے کار لانے میں پاکستان کے کردار پر زور دیتے ہوئے 12 اپریل 1961 کی پرواز اور خلائی تحقیق کے سنگ میل کو سراہا۔ اتوار کو پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہنیلہ طارق نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی دن منانے کا مقصد پہلی انسانی خلائی پرواز کی اہمیت، خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے اہم کردار کو پہچاننا اور اس کی یاد منانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح یہ پیشرفت عالمی ترقی اور اختراع میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ خلائی سائنس نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجہ میں توانائی، ماحولیات، مواصلات اور تعلیم جیسے شعبوں میں چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد اور پوری انسانیت کو فائدہ پہنچایا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ 12 اپریل کو انسانی خلائی پرواز کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے تاکہ یوری گاگارین کے 1961 میں خلا میں تاریخی پہلے سفر کی یادمنائی جا سکے۔پاکستان کی ٹیکنالوجی اور اختراعات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شہنیلا طارق نے کہا کہ پاکستان 2026 میں چاند پر تاریخی لینڈنگ کا ہدف رکھتا ہے جو ملک کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشن خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں پاکستان کی بڑھتی صلاحیتوں کو ظاہر کرے گا، ساتھ ہی ایسی اختراعات کو جاری رکھے گا جو پائیدار ترقی میں معاون ہوں اور عالمی خلائی برادری میں ملک کے کردار کو مضبوط کریں۔ انہوں نے پانچ دہائیوں کے بعد چاند پر واپسی پر ناسا کے خلابازوں کی بھی تعریف کی، اسے انسانی بہادری کا ثبوت اور تکنیکی کامیابیوں میں ایک سنگ میل قرار دیا۔