حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو مزید فعال بنایا جا سکتا ہے،ڈائریکٹرجنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان

حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو مزید فعال بنایا جا سکتا ہے،ڈائریکٹرجنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان

کوئٹہ۔ 09 مئی (اے پی پی):سینٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاؤنٹی بیلیٹی کے زیراہتمام بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے تعاون سے کوئٹہ میں ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا، جس میں بلوچستان میں معلومات تک رسائی کے حق (رائٹ ٹو انفارمیشن) ایکٹ 2021 پرعملدرآمد کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کا جائزہ لیاگیا۔سیمینار میں ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور خان، سی جی پی اے کی کوآرڈینیٹر رباب مختلف سرکاری محکموں کے پبلک انفارمیشن افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اعلیٰ سرکاری حکام اور صحافیوں نے شرکت کی۔

شرکانے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 پرعملدرآمد کی موجودہ صورتحال، ادارہ جاتی رکاوٹوں اور معلومات تک عوام کی بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لیے موثر حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل تعلقاتِ عامہ بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ میں سول سوسائٹی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مثبت تعاون کے ذریعے اس قانون کو مزید فعال بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفافیت اور احتساب کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ اجتماعی قومی فریضہ ہے، جس کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے کمشنر عبدالشکور نے خطاب میں کمیشن کی کارکردگی، حاصل شدہ پیش رفت اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے موثر رابطہ کاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید نظام کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ سی جی پی اے کوآرڈینیٹر رباب اے آئی ڈی بلوچستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عدیل جہانگیر اور بہرام لہڑی نے کہا کہ اگرچہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، تاہم محدود ادارہ جاتی استعداد، معلومات کی فراہمی میں تاخیر اور عوامی سطح پر آگاہی کی کمی جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں جنہیں دور کیے بغیر اس قانون کے مکمل ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

سیمینار کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے اور موثر پالیسی اقدامات کے ذریعے بلوچستان میں شفافیت، جوابدہی اور معلومات تک عوام کی رسائی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔