اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں عالمی سطح پر غیر معمولی چیلنجز کے باوجود ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنایا، پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لئے درکار انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے تقریباً 200 سے 300 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام کانفرنس ’’انرجی ڈیبیٹ: وے فارورڈ فار فسکل ڈسپلن ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے، شپنگ میں رکاوٹوں اور انشورنس پریمیم میں ریکارڈ اضافے جیسے مشکل حالات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران نے پاکستان کے توانائی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے لچک، توانائی ذرائع میں تنوع، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور ادارہ جاتی تیاری ناگزیر ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ توانائی کا تحفظ صرف مختلف ممالک سے ایندھن کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس کے لئے مؤثر ردعمل، لچکدار حکمت عملی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ دبئی کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ڈیزل پریمیم بڑھ کر 285 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جو عالمی کموڈیٹی مارکیٹ کی تاریخ میں غیر معمولی سطح ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے میں رکاوٹ، بحری جہازوں کی کمی اور انشورنس اخراجات میں غیر معمولی اضافے نے تیل کی درآمدات کو مزید پیچیدہ بنا دیا جبکہ فریٹ انشورنس کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت نے ملک بھر میں ایندھن کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی اور تمام معاہدہ جاتی ذمہ داریاں پوری کیں جس سے مارکیٹ میں اعتماد اور استحکام برقرار رہا۔
علی پرویز ملک نے بحران کے دوران صنعت سے وابستہ اداروں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قلیل مدتی مقبول فیصلوں کے بجائے مربوط حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس مشکل دور میں آئل سپلائی چین کے سرکلر ڈیٹ میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں ہونے دیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت نے گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں مزید اضافے کو بھی روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔