حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان اور تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ،وزیرمملکت بلال اظہر کیانی

حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان اور تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ،وزیرمملکت بلال اظہر کیانی

راولپنڈی۔ 22 مئی (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریونیو بلا ل اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان اور تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں پری بجٹ سیمینار سےخطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نے ٹیکس حکام کی جانب سے ہراسانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کاروباری طبقے کے ساتھ ناروا رویے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے معیشت میں استحکام آیا، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے اور عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا، علاقائی کشیدگی اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجود پاکستانی روپیہ مستحکم رہا جبکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ اور معیشت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ پاکستان مستقل بنیادوں پر آئی ایم ایف پروگرامز سے نجات حاصل کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کیلئے خصوصی سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں جبکہ چھوٹے ایکسپورٹرز کیلئے درآمدی اشیا کے استعمال کی مدت 18 ماہ تک بڑھا دی گئی ہے تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل عالمی معاشی حالات کے باوجود کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت کر رہی ہے اور آئندہ بجٹ میں زیادہ سے زیادہ سہولیات اور آسانیاں فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔نجکاری کے عمل پر بات کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے،پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے جبکہ تین پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عمل جاری ہے،ان اداروں کی بہتری اور مستقل حل نجکاری میں ہی موجود ہے اور پرائیوٹائزیشن کمیشن اس حوالے سے سرگرم عمل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کنسٹرکشن سیکٹر کے فروغ کیلئے ہاؤسنگ فنانس اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت مل سکے۔صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت نے اپنے خطاب میں سپر ٹیکس کے خاتمے، کارپوریٹ اور سیلز ٹیکس میں کمی، تنخواہ دار طبقے کیلئے کم از کم قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بڑھانے اور کاروباری لاگت کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے طویل المدتی صنعتی پالیسی ناگزیر ہے۔سابق صدر و گروپ لیڈر سہیل الطاف نے سرکاری اداروں اور عملے کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور ہراسانی کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے ساتھ رویوں میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سابق صدر اسد مشہدی نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔راجہ عامر اقبال نے براہ راست ٹیکس اور بلواسطہ ٹیکس، تجارتی خسارے کے حوالے سے اعداد ا شمار پیش کئے۔ سیمینار میں مختلف ٹریڈ ایسوسی ایشنز اور شعبہ جات کے نمائندگان نے بھی وزیرِ مملکت کے ساتھ انٹرایکٹو سیشن میں شرکت کی اور اپنے شعبوں سے متعلق تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی ، نائب صدر فہد برلاس ، سابق صدور، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین، ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور آر سی سی آئی کے ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے باعث حکومت کے پاس ریلیف دینے کی محدود گنجائش موجود ہے۔