حکومتی معاشی پالیسیوں سے جنگ کے اثرات کم اور جنگ بندی سے صورتحال میں بہتری آئی، بلال اظہر کیانی

حکومتی معاشی پالیسیوں سے جنگ کے اثرات کم اور جنگ بندی سے صورتحال میں بہتری آئی، بلال اظہر کیانی

کراچی۔ 18 اپریل (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت کی مؤثر معاشی پالیسیوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے دوران عوام پر پڑنے والے بوجھ کو کم سے کم رکھا گیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کاوشوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی جس سے صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری شخصیات سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کرنا باعث فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کے منفی اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے اہم معاشی اہداف حاصل کیے، جس سے جنگ کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تین ہفتوں تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا اور اخراجات میں کمی کرتے ہوئے 129 ارب روپے عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے کے لیے استعمال کیے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً برآمد کنندگان کو وزیراعظم نے زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام میں کردار کے باعث ’’سر کا تاج‘‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ترسیلات زر کے ذریعے معیشت کو سہارا مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا گیا ہے اور حال ہی میں ایک بڑی کمپنی نے اس اسکیم کے تحت اکاؤنٹ کھول کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے، جو حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ وزیر مملکت نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اس ادارے نے معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے نے عالمی معیشت کو متاثر کیا، تاہم پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو عالمی رہنماؤں نے بھی سراہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، جس سے حکومت کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کرنے کا موقع ملا اور عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل کوششوں سے تنازعے کا مستقل حل نکلے گا اور صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مل کر معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کرے گی۔ ٹیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی ضروری ہے، تاہم یہ اقدامات میرٹ اور توازن کے ساتھ کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں معاشی حالات مشکل تھے، تاہم سخت اقدامات کے باعث مہنگائی کی شرح 24 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ تک آگئی، جس سے جنگ کے اثرات کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے برآمدات بڑھانے اور اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران اور کاروباری برادری کے دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔