حرمین شریفین کے تقدس و احترام کے پیش نظرسعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کریں،پاکستان علماءکونسل

حرمین شریفین کے تقدس و احترام کے پیش نظرسعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کریں،پاکستان علماءکونسل

اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):پاکستان علماءکونسل، انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل اور دارالافتاءپاکستان نے حجاج کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ حرمین شریفین کے تقدس و احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کریں۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماءکونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، حافظ طارق محمود، مولانا اسعد زکریا، مولانا نعمان حاشر، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسد اللہ فاروق، حافظ مقبول احمد، علامہ طاہر الحسن، مولانا محمد اسلم صدیقی، قاری عبدالحکیم اطہر، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا مبشر رحیمی، مولانا عزیز اکبر قاسمی اور دیگر نے کہا کہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ حج و عمرہ پر روانگی سے قبل مکمل معلومات حاصل کریں تاکہ مناسک حج و عمرہ میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ مملکت سعودی عرب جو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے، اس کے تمام اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے مہمانوں کی بھرپور خدمت کر یں۔ اس لئے حجاج پر بھی لازم ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق اور سعودی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔ دوران حج سیاسی میدان لگانے یا ایسی کسی بھی کوشش کا حصہ نہ بنیں۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ حج و عمرہ گروپ، آن لائن گروپ سے بکنگ نہ کرائیں، سعودی عرب میں رہنے والے بغیر اجازت نامہ کے حج نہ کریں، بغیر اجازت نامہ حج شرعی و قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ حج یا عمرہ کے لئے روانہ ہوتے وقت اپنی نیت کو خالص اللہ کے لئے کر لیں کہ ہمارا یہ حج یا عمرہ اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کا مقصد دنیا کی نمود و نمائش نہیں ہے اور حتیٰ الامکان عبادت کی ویڈیو اور تصاویر سے اجتناب کریں۔ حج اور عمرہ پر روانگی سے قبل حج اور عمرہ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر لینی چاہئیں اور اگر معلومات حاصل نہیں کیں تو پھر سفر کے دوران کسی جاننے والے سے ضرور رہنمائی لے لینی چاہیے تاکہ مناسک حج و عمرہ میں مشکلات پیش نہ آئیں اور معلومات کے حصول کے لئے کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ حج یا عمرہ پر روانگی کے وقت جو طریقہ کار اور ضابطہ وزارت مذہبی امور یا حج، عمرہ گروپ کے رہنمائوں نے مرتب کیا ہو اسی کی رہنمائی میں حج، عمرہ کے سفر کو مرتب کریں اگرچہ اس میں آپ کے مزاج کے خلاف ہی کوئی چیز کیوں نہ ہو۔ حج اور عمرہ کا بنیادی مقصد ہی اپنی انا، تکبر کو قربان کر کے اللہ رب العزت کے سامنے خود کو پیش کرنا اور لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کر کے اپنی عاجزی، انکساری اور بندگی کا اعلان کر نا ہے ۔

سعودی عرب کی وزارت حج، وزارت داخلہ کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ حجاج کرام اور زائرین کے لئے زیادہ سے زیدہ سہولتیں پیدا کرے۔ ایئرپورٹ پر اور ایئرپورٹ سے روانگی میں ہونے والی تاخیر پر پریشان ہونے کی بجائے اللہ کا ذکر کریں، لبیک اللھم لبیک کی صدائیں لگائیں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں اور اس بات کا احساس اور ادراک رکھیں کہ حج میں مشکلات آتی ہیں اور ان مشکلات پر صبر کرنا ہی حج کے اجر کا سبب بنے گا۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی وزرات حج اور وزارت داخلہ کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنا حجاج کرام پر لازم ہے۔ اگر لاکھوں لوگ قانون کی پابندی نہ کریں اور اپنی مرضی اور منشاءکے مطابق وقت گزارنے کی کوشش کریں تو اس سے افراتفری اور فساد کی کیفیت پیدا ہو گی جس کو قرآن و سنت نے سختی سے منع کیا ہے۔ حج کے دوران سعودی عرب میں اور بالخصوص مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ اور عرفات میں بھی سیاسی میدان لگانے کی خود بھی کوشش نہ کریں اور کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ نہ بنیں۔ ان قوتوں کا مقصد صرف اور صرف حرمین الشریفین کے امن کو تباہ کرنا اور حجاج اکرام کے لئے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ ایسا کرنے والے افراد، گروہوں، جماعتوں سے مکمل دور رہیں اور اگر آپ کے علم میں اس طرح کی کوئی بات آ جائے تو اپنے گروپ کے قائد کو اس سے ضرور آگاہ کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔

منیٰ، عرفات اور مزدلفہ آتے جاتے ہوئے اپنے گروپ کے قائد کی ہدایات کو واضح پکڑیں، کسی قسم کی جلد بازی یا جلد بازی خدا نخواستہ کسی حادثہ کا باعث بنتا ہے ۔ اسی طرح رمی جمرات کے معاملہ پر بھی قافلے میں شریک علماءاور گروپ قائد کی ہدایات کو مدنظر رکھیں اور جلد بازی نہ کریں۔ رمی جمرات کے مسئلہ پر علماءکرام اور مفتیان عظام نے عورتوں، بیماروں اور ضعیفوں کے لئے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں جو سہولتیں بتائی ہیں، ان سہولتوں کو مدنظر رکھیں۔ مملکت سعودی عرب میں بھیک مانگنا اور منشیات لے جانا بہت بڑا جرم ہے، حجاج کرام اور عمرہ زائرین اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ وطن عزیز پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماءو مشائخ، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، حج منتظمین کے نمائندے، مملکت سعودی عرب کی اسلام اور مسلمانوں کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، بلاشبہ مملکت سعودی عرب حجاج اور زائرین کے لئے جو تبدیلی لا رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ پاکستان سمیت تمام حجاج و زائرین، ان کے منتظمین اور حکومتیں، مملکت سعودی عرب کی حج پالیسی پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔