اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):بھارتی حج زائرین کو ریاستی سرپرستی میں ڈیجیٹل نگرانی کا نشانہ بنانے پر نریندر مودی حکومت کو شدید تنقید اور عوامی غصے کا سامنا ہے جبکہ مسلم و انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اس جاسوسی کے منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیاہے ۔ ایک بھارتی اخبار اور مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے انکشاف کیا ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے ایک نجی کمپنی کی مشتبہ ایپلی کیشن والی اسمارٹ واچز فراہم کیں، جس سے حقیقی وقت میں نگرانی اور ڈیٹا چوری کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق “حفاظت” کے نام پر 120,000 سے زائد مسلم زائرین میں ٹریکنگ اسمارٹ واچز تقسیم کی گئیں، جس پر حج جیسے مقدس سفر کے دوران رازداری اور انسانی حقوق سے متعلق شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ سنگین الزامات سامنے آئے ہیں کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے جی پی ایس سے لیس اسمارٹ واچز لازمی قرار دیں، جن میں ایک نجی ٹیکنالوجی کمپنی سے منسلک مخصوص ایپلی کیشنز نصب تھیں۔ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ڈیوائسز مداخلت پر مبنی حقیقی وقت کی نگرانی کے آلات کے طور پر کام کرتی ہیں، جو زائرین کی نقل و حرکت اور مقام کی مسلسل نگرانی کر سکتی ہیں۔
اس بات پر اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس حساس ڈیٹا تک پسِ پردہ رسائی کس کے پاس تھی اور نصب شدہ ایپلی کیشنز کی اصل نوعیت کیا تھی۔مذہبی اسکالرز اور ٹیکنالوجی ماہرین نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زائرین دہائیوں سے روایتی انتظامات کے ذریعے محفوظ انداز میں حج ادا کرتے آئے ہیں، جبکہ لازمی ڈیجیٹل ٹریکرز کا نفاذ مودی حکومت کی مسلم اقلیت کے خلاف گہری بدگمانی اور دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید برآں، سعودی عرب کے سخت سکیورٹی ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر بھی شدید خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، کیونکہ مقدس مقامات کے حساس علاقوں میں غیر مجاز ڈیجیٹل ریکارڈنگ اور فوٹوگرافی ممنوع ہے۔ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارتی حکومت نے میزبان ملک کے سخت مقامی قوانین سے آگاہ ہونے کے باوجود زائرین پر یہ نگرانی والے آلات کیوں مسلط کیے، جس سے ممکنہ جاسوسی کے مقاصد کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔