اسلام آباد۔11مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایاگیاہے کہ جلد کی غیرمعیاری کریموں کی روک تھام کیلئے جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں، بعض کا سمیٹک مصنوعات خصوصاً رنگ گورا کرنے والی کریمز میں مرکری سمیت خطرناک کیمیائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری نگہت شکیل خان نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان سٹینڈرڈ اینڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت ایسے سکن کریمز کی تیاری، ذخیرہ اور فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے جو متعلقہ معیاری تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔ پاکستان سٹینڈرڈ اینڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے سکن کریمز کے لیے پاکستان سٹینڈرڈ سپیسفکیشن کوڈز تیار کیا ہے جسے بین الاقوامی معیارات اور حفاظتی رہنما اصولوں سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے۔
اس معیار میں مرکری، آرسینک، ہائیڈروکوئینون، کو رٹیکوسٹیرائیڈز اور جراثیمی اجزاء جیسے مضر عناصر کی قابل اجازت حدیں بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔پی ایس کیو سی اے کی جانب سے سکن کریم تیار کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس’’پاکستان کنفارمٹی اسیسمنٹ رولز 2011‘‘ کے تحت جاری کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں پیداواری یونٹ کا معائنہ اور مصنوعات کی جانچ شامل ہوتی ہے تاکہ ان کے معیار کو پاکستان سٹینڈرڈ سپیسفکیشن کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہے کہ بعض کا سمیٹک مصنوعات خصوصاً رنگ گورا کرنے والی کریمز میں مرکری سمیت خطرناک کیمیائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر پی ایس کیو سی اے نے متعلقہ حفاظتی معیارات مرتب اور نافذ کیے ہیں جن کے تحت زہریلے اجزاء کی قابل اجازت مقدار کو وفاقی حکومت کے جاری کردہ ایس آر او کے مطابق ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔
ایوان کو بتایاگیا کہ پی ایس کیو سی اے نے معمول کے مطابق مارکیٹ نگرانی کے دوران مختلف برانڈز کے نمونے حاصل کیے اور مذکورہ رپورٹ میں شامل غیر معیاری برانڈز کے اوپن مارکیٹ سیمپلز لے کر انہیں پاکستان کو نسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی لیبارٹری بھجوایا تاکہ پاکستان سٹینڈرڈ سپیسفکیشن کے مطابق ان کے معیار کی جانچ کی جا سکے۔ پی سی ایس آئی آر کی رپورٹس کے مطابق گولڈن پر ل بیوٹی کریم، پارلے 24K گولڈ بیوٹی کریم ، گوری بیوٹی کریم ، فیس فریش بیوٹی کریم اورڈیو بیوٹی کریم غیرمعیاری قراردی گئیں اور پی ایس کیو سی اے نے ان برانڈز کے مینوفیکچررز کو جاری کیے گئے لائسنس معطل کر دیئے ہیں۔ یہ لائسنس اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک متعلقہ کمپنیاں خامیوں کو دور کرکے مقررہ معیارات پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہاکہ جلد کی کریموں میں مرکری کے حوالہ سے شکایات پر نوٹس لیاجاتا ہے اورصرف معیار کے مطابق بنانے والی کریموں کو مارکیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔آغارفیع اللہ کے ضمنی سوال پر انہوں نے کہاکہ شہریوں کیلئے مضر صحت مصنوعات کی روک تھام کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سیدوسیم حسین کے ضمنی سوال پر انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد وزارت میں ڈیپوٹیشن پر کوئی افسر نہیں آیا ہے۔