بی ایل اے نے فدائی حملہ کےلئے میری ذہن سازی کی ، خیر النساء

بی ایل اے نے فدائی حملہ کےلئے میری ذہن سازی کی ، خیر النساء

اسلام آباد۔11مئی (اے پی پی):سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی کارروائی کے دوران بی ایل اے کے دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرائی گئی کم عمر لڑکی خیر النساء نے کہا ہے کہ بی ایل اے کےلئے کام کرنے کےلئے مجھے ڈرایا گیا اور میری ذہن سازی کی گئی۔اپنے ایک ویڈیو بیان میں خیر النسا کا کہنا تھا کہ میرا تعلق تربت سے ہے، میرے والدین ضعیف العمر اورغریب ہیں، میرے بہن بھائی چھوٹے ہیں،مجھے میرے کزن نے ڈرایا دھمکایاکہ آپ تنظیم بی ایل اے کے لیے کام کروورنہ تمہارے باپ کو قتل کر دوں گا ،اگر تم یہ کام فدائی حملہ نہیں کرو گی ،تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ،پھر میں ان کے لیے موبائل کارڈ بھیجتی تھی اور روٹیاں بناتی تھی ،مجھے نہیں پتہ کہ یہ روٹیاں کہاں لے کر جاتا تھا اور کس کے لیے لے کر جاتا تھا ،پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ تنظیم بی ایل اے کے لیے جاتا ہے ۔

پھر میراکزن میری آنکھیں بند کر کے دو مرتبہ پہاڑ پر لے گیا ،سر مچاروں سے ملاقات کروائی ،پھر سرمچاروں نے میرا ذہن ایسابنایا کہ میں تیار ہو گئی ،پھر میرے منگیتر کو معلوم ہوا کہ پھر اس نے مجھے منع کیا ہے کہ اپنے کزن سے دور رہو ،میرے والدین نے مجھے روکا کہ اس سے دور رہو اور بات نہیں کرو ہم غریب ہیں ،میرا ابو ڈرائیور ہے ،مجھے ڈر تھا کہ میرے ابو کو کچھ کرنہ دیں، اسی وجہ سے میں نے یہ کام کیا ،پھر حب چوکی آئی اپنے علاج کے لیے ،پھر کزن نے مجھے فون کیا تو میں نے بتایا کہ میں کان کے علاج کے لیے آئی ہوں ،پھر کزن نے مجھے کہاکہ کان کا علاج کرو، پھر آپ کو آگے بھیجنا ہے ۔

میں حب چوکی پر تھی پھر کزن نے مجھے ایک موبائل نمبر دیا پھر میری بات ہوئی، اس نے کہا کہ علاج کے بعد والدین کی ہاں جائو ،ان کے ساتھ وقت گزارو ،پھر آپ کو فدائی حملے کے لیے بھیج دیں گے، پھر مجھے بتا یامجھے پتہ چلا کہ میرا کزن پکڑا گیا ہے ،جب میرا کزن پکڑا گیا تو میں نے خوف سے اپنا موبائل توڑ دیا ،میں پھر سمجھ گئی کہ میرا کزن پکڑا گیا تو میں بھی پکڑی جائوں گی ۔مجھے پولیس نے حراست میں لیا اور مجھے محفوظ مقام اور عزت کے ساتھ رکھا ،پھر میں نے بھی پولیس والوں کو ان کے باقی بندوں کے نام بھی بتادیئے کیونکہ میں یہ کام فدائی حملہ نہیں کرنا چاہتی تھی ،مجھے بلیک میل کیا گیا ،مجھے ڈرایا گیا ، ذہن سازی کی گئی،میں بالکل بھی یہ کام نہیں کرنا چاہتی تھی اور باقی میری بہنوں سے گزارش ہے کہ تنظیم کا ساتھ نہ دے ،مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے مجھے پینٹنگ کا بہت شوق تھا،

سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہوں اور میری کلاسز چل رہی تھی ۔میری یہ خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر یاا ستانی بن کر اپنی ماں کا نام روشن کروں۔ بس میں پڑھنا چاہتی ہوں اورآگے بڑھنا چاہتی ہوں ،ایک اچھا انسان بننا چاہتی ہوں ،یہ کام نہیں کرنا چاہیے ،یہ کام غلط ہیں، میں اس عمل سے پولیس کی حراست پر پہنچ چکی ہوں ،اب لوگ بھی اس عمل سے گریز کریں تواس کام سے اپنے اپ کو محفوظ رکھیں، یہ کام اچھا نہیں ہے ، شکر ہے میں فدائی حملہ کرنے سے بچ گئی ، میرا ذہن ایسے تیار کیا گیا تھا کہ میں فدائی حملہ کرنے پر مجبور تھی۔