پشاور۔ 21 مئی (اے پی پی):پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی جانب سے حاصل کی جانے والی تاریخی فوجی اور سفارتی کامیابیوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے جس سے پاکستان عالمی منظر نامے پر ایک با اعتماد ناقابل تسخیر قوت کے طور پر ابھرا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔اس موقع پر دیگر سینیئر فوجی افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نے موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کو غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے مکمل عزم اور ہمت کے ساتھ نمٹنے پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ مئی 2025 کے فوجی تناؤ کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گناہ بڑے پڑوسی ملک کے جارحانہ حملے کو کامیابی سے ناکام بنایا ، ہماری مسلح افواج نے جارحیت پسند ہندو قیادت کو ایک ایسا تلخ اور بے مثال سبق سکھایا جس نے تاریخ میں ہندوستان کے لیے ایک سیاہ اور پاکستان کے لیے ایک سنہرا باب رقم کر دیا ہے۔ ایک تیز رفتار، بجلی کی مانند کڑکتے اور بہترین حکمت عملی سے لیس جوابی فضائی حملوں نے ایک فرعون صفت دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور اس کی افواج کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا جس کے بعد ان کے پاس جنگ بندی کی بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم الشان کامیابی کا سہرا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے سر باندھا اور واضح کیا کہ اس بحران کے دوران پوری قوم اپنی فوجی قیادت کے پیچھے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد کھڑی ہے۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و دفاعی قوت اس وقت مضبوط ہاتھوں میں ہے اور عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان پر کئے جانے والا بے پناہ بین الاقوامی اعتماد اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان نے سٹریٹجک، غیر جانبداری اور سفارتی وزن نے مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ بحران میں کامیابی سے ثابت قدمی اور ثالثی کا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں متحارب فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے جس سے بے پناہ جانوں کو تلف ہونے سے بچایا گیا یہ پاکستان کی ایک عظیم سفارتی کامیابی ہے جس کو ساری دنیا سراہ ا رہی ہے۔ سینٹر عبدالقیوم نے نشاندہی کی کہ یہ دونوں بڑی کامیابیاں یعنی فوجی برتری اور سفارتی وقار مخاسم ریاست و بالخصوص بھارت اور اسرائیل کو ہضم نہیں ہو رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس مایوسی کا اندازہ اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ بیانات سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا جھوٹا الزام پاکستان پر عائد کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ امریکی عوام جانتے ہیں کہ ان کی پیٹھ میں چھرا کس نے گھونپا۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ ہم بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیانات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید گھبراہٹ اور مایوسی کا شکار بھارتی آرمی چیف پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کی دھمکیاں دینے کی جسارت کر رہے ہیں یہ ایک شکست خردہ ذہنیت کی کھوکھلی بڑھکیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دونوں براہ راست اس وقت افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشت گردی اور سورش کو ہوا دے رہے ہیں ۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ پاک فوج 24 کروڑ عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ ان غیر ملکی ہتھیاروں، مالی امداد اور وسائل پر پلنے والے کرائے کے قاتلوں کو عبرتناک شکست دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا تو افغانستان کو مشورہ ہے کہ وہ امن کی طرف آئے اوراپنی سرزمین اسرائیل اور انڈیا کی پراکسی وار میں استعمال نہ کرے کیونکہ ہم ہی وہ قوم ہیں جنہوں نے سخت وقت میں افغانوں کو پناہ دی اور ان کی خدمت کی اور آج افغان حکومت اپنی سرزمین اسی پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امن و امان اور معاشی ماحول خاص طور پر ہمارے مغربی سرحدی صوبوں کو آلودہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا ۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ایک ایٹمی قوت کو مٹھی بھر انتہا پسند عسکریت پسندوں کے ذریعے مرعوب نہیں کیا جا سکتا ۔پریس کانفرنس کے اختتام پر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نے مائیکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی انتھک کوششوں کو سراہا جو مشرق وسطیٰ کے بحرانوں سے پیدا ہونے والے بیرونی معاشی جھٹکوں کی وجہ سے عارضی طور پر متاثر ہوا ہے۔ سابق فوجی قیادت نے اس گہرے اعتماد اور امید کا اظہار کیا کہ آنے والے وقت میں معاشی حالات جلد ہی رنگ لائیں گے۔