اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے بھارتی اور اسرائیلی کتب و دیگر اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی کے حکومتی نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر درست قرار دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو دی گئی تمام ہدایات کالعدم قرار دے دیں ۔ جسٹس عامر فاروق نے اکثریتی تحریری فیصلہ جاری کیا جبکہ جسٹس علی باقر نجفی نے اضافی نوٹ تحریر کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت کو نظرثانی کے لیے افسر مقرر کرنے کا حکم ازخود نوٹس (سو موٹو) کے مترادف تھا، جسے ختم کیا جاتا ہے۔ عدالت کے مطابق ہائیکورٹ کو اس نوعیت کی کارروائی کا اختیار حاصل نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات ایگزیکٹو کے خصوصی اختیارات میں آتے ہیں اور عدلیہ ان میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنا چاہتی ہے، اور اگر عدلیہ تجارت سے متعلق احکامات جاری کرے تو یہ اختیارات سے تجاوز ہوگا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پڑھنے کا حق بنیادی انسانی حق ہے اور اسے آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت زندگی کے حق سے جوڑا جا سکتا ہے، تاہم یہ حق ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت عائد پابندیوں کے تابع ہوگا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئین ایک “ارتقاء پذیر آئینی دستاویزہے جو وقت کے ساتھ نئے حقوق کی تشریح کر سکتا ہے۔عدالت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت مفت تعلیم کا حق سکول اور کالج کی سطح تک محدود ہے۔ مزید کہا گیا کہ اگرچہ بھارت سے قانون کی کتابیں سستی دستیاب ہیں، تاہم خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ان کی درآمد پر پابندی برقرار رہے گی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نجی درخواست گزار اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں۔یہ مقدمہ لاہور کے ایک نجی بک ہاؤس کی درخواست پر سامنے آیا تھا جس میں بھارت سے قانون کی کتابیں درآمد کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ بھارتی کتب نہ صرف سستی ہیں بلکہ وہاں کا قانونی نظام بھی پاکستان سے مماثلت رکھتا ہے۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارت سے ہر قسم کی تجارت اور درآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو کتابوں کی درآمد پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جسے وزارتِ تجارت نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔