بھارتی آبی جارحیت ناقابل قبول، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی ادارے نوٹس لیں، مظہر چانڈیو

بھارتی آبی جارحیت ناقابل قبول، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی ادارے نوٹس لیں، مظہر چانڈیو

حیدرآباد۔ 20 مئی (اے پی پی):این پی سی آئی ایچ اے کے صوبائی نائب صدر مظہر چانڈیو نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل خطے کے امن اور معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ “اے پی پی” سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور آبی تنازعات سے بچاؤ ہے تاہم بھارت مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو اس معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا بڑا دارومدار زراعت پر ہے۔

اگر پاکستان کے حصے کے پانی میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ مجموعی قومی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ مظہر چانڈیو نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے ڈیموں اور دیگر آبی منصوبوں کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنا تشویشناک ہے اور یہ اقدام علاقائی امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام عالمی بینک، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنائیں اور پاکستان کو اس کے حصے کا پانی بلا رکاوٹ فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر آواز اٹھاتا رہے گا اور سفارتی و قانونی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔