اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے چئیر مین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملک بھر میں فعال، مربوط اور مضبوط ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کے فروغ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات اب ایک آپشن نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت بن چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو “نیشنل کوآرڈینیشن فورم آن اینٹیسیپیٹری ایکشن” کے تحت پیشگی حفاظتی اقدامات پر دوسرےقومی مکالمہ کے اختتام پر اپنے خطاب میں کیا۔دو روزہ مکالمے میں تقریباً 200 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں وفاقی و صوبائی حکومتی ادارے، اقوام متحدہ کے ادارے، انسانی ہمدردی اور ترقیاتی تنظیمیں، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، جامعات، نجی شعبہ، موسمیاتی و ماحولیاتی ماہرین اور کمیونٹی نمائندگان شامل تھے۔
اس مکالمے کا مقصد پاکستان میں پیشگی اقدامات اور موسمیاتی مزاحمت کے قومی نظام کو مضبوط بنانا تھا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات جیسے سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے۔شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بروقت وارننگ، مربوط تیاری اور پیشگی منصوبہ بندی پر مبنی اقدامات انسانی نقصان کم کرنے، روزگار اور معاش کو محفوظ بنانے اور ترقیاتی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اختتامی خطاب میں تمام شرکاء کی فعال شرکت اور قیمتی تجاویز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات اب ایک آپشن نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت بن چکے ہیں۔ انہوں نے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، ڈیٹا پر مبنی فیصلوں، ابتدائی وارننگ کی معلومات عوام تک بروقت پہنچانے اور کمیونٹی کی سطح پر تیاری کے نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ این ڈی ایم اے ملک بھر میں فعال، مربوط اور مضبوط ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکر تھامس کونان نے اپنے اختتامی کلمات میں این ڈی ایم اے کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی اداروں کے ساتھ مل کر ابتدائی وارننگ سسٹم، پیشگی مالی وسائل اور خطرات سے متعلق آگاہی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رکھے گا تاکہ آفات سے پہلے ہی متاثرہ کمیونٹیز تک مدد پہنچائی جا سکے۔دو روزہ قومی مکالمے میں پانچ مکمل اجلاس اور دو بریک آؤٹ سیشنز منعقد ہوئے، جن میں ماضی کے تجربات کا جائزہ لیا گیا اور مختلف خطرات کے لیے پیشگی اقدامات کے نظام کو وسیع کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
قومی مکالمے میں پیشگی اقدامات کے مؤثر نفاذ کے لیے مربوط حکمت عملی ،موسمیاتی اور خطرات سے متعلق معلوماتی نظام کو مضبوط بنانا،ابتدائی اقدامات کے لیے یکساں ٹرگرز مرتب کرنا،اینٹیسیپیٹری ایکشن کو سماجی تحفظ اور ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ سے جوڑنا،مقامی صلاحیتوں کو بہتر بنانا،سرکاری سرمایہ کاری اور موسمیاتی فنڈنگ کے ذریعے پائیدار مالی وسائل کو فروغ دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت، امدادی اداروں، سائنسی تنظیموں، میڈیا، جامعات اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے تاکہ ہر سطح پر پیشگی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کیے جا سکیں۔مکالمے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ “نیشنل کوآرڈینیشن فورم آن اینٹیسیپیٹری ایکشن” کے تحت ایک مربوط قومی روڈ میپ تیار کیا جائے گا، جس کی سفارشات مستقبل کی پالیسیوں، پروگراموں، شراکت داریوں اور عملی فریم ورک کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گی تاکہ پاکستان کو موسمیاتی آفات کے مقابلے میں زیادہ تیار اور مضبوط بنایا جا سکے۔این ڈی ایم اے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بہتر رابطہ کاری، جدت اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان میں ڈیزاسٹر رسک میں کمی اور موسمیاتی مزاحمت کے لیے پیشگی اقدامات کو فروغ دیتا رہے گا۔