بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کا پاکستان پر اعتماد برقرار رکھنے کیلئے نا گزیر ہے،وزیراعظم شہباز شریف

بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کا پاکستان پر اعتماد برقرار رکھنے کیلئے نا گزیر ہے،وزیراعظم شہباز شریف

کوئٹہ۔19مئی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا پاکستان پر اعتماد برقرار رکھنے کیلئے نا گزیر ہے،دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے کیلئے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین ٹریننگ اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے،رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعیناتی سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کیلئے راہداری قائم ہو گی،حکومت بلوچستان صوبے کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں موثر انداز میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، سید محسن رضا نقوی، عطاء اللہ تارڑ، خالد مگسی، جام کمال خان، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سکیورٹی، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، منصوبہ بندی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نےاپنے خطاب میں بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور پاک افواج کو خراج تحسین پیش کیا ۔وزیراعظم نے بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔وزیراعظم نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے ایک راہداری قائم ہو گی، اس سکیورٹی راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹس وغیرہ شامل ہوں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات سے مالامال ہے، بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا پاکستان پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے۔وزیراعظم نے حکومت بلوچستان کی جانب سے ضلعی انتظامیہ میں تعیناتیوں کے لیے شفافیت اور میرٹ برقرار رکھنے کی کاوشوں کو سراہا ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین ٹریننگ اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے،حکومت بلوچستان صوبے کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں موثر انداز میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں تعلیمی مواقع میں اضافہ، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، روزگار کے مواقع کی فراہمی، سپورٹس اور یوتھ پروگرامز کا فروغ، سکالرشپس، ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ اور نوجوانوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر سہولیات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں،حکومت نوجوانوں کے ساتھ تعمیری رابطے اور موثر شمولیت کے ذریعے انہیں قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گری کے لیے اقدامات کی پیشرفت، گورننس کے نظام میں بہتری کے لیے اقدامات، ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس اکانومی کے لیے اقدامات اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے سرگرم عمل ہیں،بلوچستان میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے یوتھ سکلز پروگرام اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے

نومبر 2024ء سے اب تک ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا،کینسر انسٹیٹیوٹ ، ڈائلیسس سینٹر، ٹراما سینٹر اور اس جیسے شعبہ صحت کے متعدد منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور مزید کی تعمیر پر کام جاری ہے، بلوچستان میں اس وقت 99 فیصد سکول کھلے ہیں اور تعلیمی سر گرمیاں جاری ہیں،شمسی توانائی کے منصوبے سے بلوچستان میں 15000 سے زائد گھروں کو فائدہ پہنچا ہے جس کی بدولت اب تک تقریبا 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ ہو چکی ہے۔