بلوچستان اسمبلی کااجلاس،سکیورٹی فورسز کے شہید اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی ،خواتین کیلئے فنی،تکنیکی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے فروغ سے متعلق قرارداد منظور

بلوچستان اسمبلی کااجلاس،سکیورٹی فورسز کے شہید اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی ،خواتین کیلئے فنی،تکنیکی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے فروغ سے متعلق قرارداد منظور

کوئٹہ۔ 14 مئی (اے پی پی):بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر کیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا، اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغوا، ترقیاتی فنڈز، بارڈر تجارت اور خواتین کی فنی تعلیم سمیت اہم عوامی مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی۔اجلاس کے آغاز میں بارکھان میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سپیکر نے حکومتی اراکین کو اجلاس کے اختتام تک حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ایوان کو بتایا کہ صوبے میں امن و امان ایک اہم مسئلہ ہے اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں جبکہ حکومت نے اراکین اسمبلی اور وزرا کو سکیورٹی گارڈز بھی فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہ کر بات کریں گے حکومت ان سے مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم ملک توڑنے کی بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے بھی صوبے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

رکن اسمبلی صادق عمرانی نے کہا کہ صوبے میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، دہشت گردوں اور حکومت کے درمیان جنگ جاری ہے جبکہ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔سابق وزیراعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں دو دہائیوں سے حالات خراب ہیں اور مسئلے کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام راستے بند ہیں جبکہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغوا کا واقعہ انتہائی تشویشناک ہے۔رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے کسٹم ویئر ہائوس میں آتشزدگی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی، جس سے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ انہوں نے حکومت سے متاثرہ تاجروں کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا۔ سپیکر نے معاملے پر سینئر کلکٹر کسٹمز کو ایوان میں طلب کرکے بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر علامتی واک آئوٹ کیا تاہم بعد میں ایوان میں واپس آگئیں۔

رکن اسمبلی اسد بلوچ نے اپنے توجہ دلا ئونوٹس میں کہا کہ پی بی 29 پنجگور کیلئے مالی سال 2024-25 کے ترقیاتی فنڈز عدالتی احکامات کے باوجود جاری نہیں کئے گئے، جس سے علاقے کے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکومتی وضاحت کے بعد ان کا توجہ دلا ئونوٹس نمٹا دیا گیا۔رکن اسمبلی مولوی نوراللہ نے قلعہ سیف اللہ میں معدنیات کے شعبے میں زمینوں کی مجوزہ الاٹمنٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے الاٹ شدہ علاقوں کو بھی نئی کمپنیوں میں شامل کیا جارہا ہے، جس سے مقامی مائن اونرز میں تشویش پائی جاتی ہے۔دریں اثنا رکن اسمبلی ہدایت الرحمن بلوچ نے گبد بارڈر کے مسائل پر قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر سے ماہانہ اربوں روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن مقامی آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

صوبائی وزیر منصوبہ بندی ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ حکومت بارڈر علاقوں میں سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ بعدازاں ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔اجلاس میں رکن اسمبلی غزالہ گولہ کی جانب سے خواتین کیلئے فنی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ سے متعلق مشترکہ قرارداد بھی پیش کی گئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں خواتین کیلئے علیحدہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کئے جائیں تاکہ خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر اور تربیت فراہم کی جاسکے۔ ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔