بخارسٹ میں پاکستانی سفارتخانے کا رومانیہ کے بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم میں تصویری نمائش کا اہتمام

بخارسٹ میں پاکستانی سفارتخانے کا رومانیہ کے بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم میں تصویری نمائش کا اہتمام

بخارسٹ۔25مئی (اے پی پی):بخارسٹ میں پاکستان کے سفارتخانے نے رومانیہ کے بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم میں’’پاکستان: صفحاتِ داستان‘‘ کے عنوان سے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا۔ نمائش کا گزشتہ روز (23 مئی) ’’یورپی نائٹ آف میوزیمز‘‘ کے موقع پر افتتاح کیا گیا جو آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہے گی۔

پیر کو سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق نمائش میں پاکستان کی شاندار تعمیرات، خوبصورت مناظر، رنگا رنگ تہواروں اور دلکش شخصیات کی عکاسی کرتی مختلف تصاویر پیش کی گئی ہیں چونکہ یہ نمائش برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے قیام کی 500 ویں سالگرہ کے موقع کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہے، اس لیے تصاویر کا ایک بڑا حصہ مغلیہ دور کی عمارات پر مشتمل ہے جن میں بادشاہی مسجد، شالامار باغ، وزیر خان مسجد، مقبرۂ جہانگیر، ہرن مینار اور چوبرجی شامل ہیں۔لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف فوٹوگرافر یاسر نثار نے نمائش میں آدھی تصاویر فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ نمائش میں پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز اور یونیورسٹی آف لاہور کے سکول آف کری ایٹو آرٹس کے 18 طلبہ و طالبات کی تصاویر بھی شامل ہیں، جو ان کے ویژول جرنلزم کے استاد اور تجربہ کار فوٹوگرافر آغا رضوان علی کی نگرانی میں تیار کی گئی ہیں۔ان طلبہ میں ماہ نور اشرف وٹو، ملائکہ رؤف، عفان اسد، محمد حسن، نورین عاصم، آغا فہد علی، ارمان ندیم، تحریم فاطمہ، شنیلا، توقیر ناصر، اسد علی، زوہا اشتیاق، محمد احمد، اُمِ حبیبہ، مومن علی، مہرین فرید، لائبہ عمر اور احمد جمیل شامل ہیں۔نمائش کا افتتاح رومانیہ میں پاکستان کے سفیر الیاس محمود نظامی اور بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم کے جنرل منیجر ڈینیئل بولکن Daniel Bolocan نے مشترکہ طور پر کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر الیاس محمود نظامی نے نمائش میں پیش کی گئی تصاویر کی نمایاں خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مغل بادشاہوں اور شہنشاہوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے برصغیر کی انتظامیہ، ثقافت، فنِ تعمیر، فنونِ لطیفہ اور کھانوں پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔انہوں نے تمام فوٹوگرافروں اور بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم کی انتظامیہ کا کامیاب نمائش کے انعقاد میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی تبادلے اور عوامی روابط پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات کا ایک اہم پہلو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نمائش ثقافت، ورثے اور انسانی تجربات کے ذریعے پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوستی کو فروغ دینے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔نمائش کو پہلے ہی دن سینکڑوں افراد نے دیکھا، جبکہ آئندہ ہفتوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد متوقع ہے۔