ایک ہی ٹرائل میں دی گئی متعدد عمر قید کی سزائیں اصولاً مسلسل چلیں گی، سپریم کورٹ

ایک ہی ٹرائل میں دی گئی متعدد عمر قید کی سزائیں اصولاً مسلسل چلیں گی، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سیشن کورٹ کی جانب سے ایک ہی مقدمے میں دی گئی متعدد عمر قید کی سزائیں اصولی طور پر مسلسل چلیں گی، جب تک عدالت انہیں بیک وقت چلانے کا واضح حکم نہ دے۔ عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ ’’شاہ حسین کیس‘‘ کا پیراگراف 40 ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35 کی تشریح کے حوالے سے لازمی نظیر نہیں جبکہ ’’بشیر بنام ریاست‘‘ کیس میں دیا گیا پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ اب بھی قابل عمل اور موثر قانون ہے۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ جس میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے دہرے قتل کے مقدمے میں مجرم قیصر عباس کی جانب سے دائر جیل پٹیشن اور فوجداری درخواست مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔عدالت کے مطابق مقدمہ لاہور کے تھانہ علامہ اقبال ٹائون میں درج ایف آئی آر نمبر 828/2011 سے متعلق تھا جس میں قیصر عباس پر الزام تھا کہ اس نے 23 جون 2011ء کو فائرنگ کرکے مسماۃ فائزہ بی بی اور ابیحہ کو قتل کیا۔

استغاثہ کے مطابق وقوعہ سے ایک ماہ قبل ملزم کی بہن اور مقتولہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا جس کی رنجش پر یہ قتل کیے گئے۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی اور حکم دیا تھا کہ دونوں سزائیں مسلسل چلیں گی۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی تھی۔سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے سزا کے خلاف میرٹ پر دلائل نہیں دیے بلکہ صرف یہ استدعا کی کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا جائے۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35 کے تحت ایک شخص کو ایک عمر قید سے زائد قید کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ قانونی معاملہ پہلے ہی ’’بشیر بنام ریاست‘‘ مقدمے میں پانچ رکنی لارجر بینچ طے کر چکا ہے جس کے مطابق سیشن کورٹ کی جانب سے ایک ہی ٹرائل میں دی جانے والی متعدد عمر قید کی سزائیں اصولاً مسلسل چلتی ہیں، الا یہ کہ عدالت انہیں بیک وقت چلانے کا واضح حکم دے۔عدالت نے قرار دیا کہ شاہ حسین بنام ریاست کیس کے پیراگراف 40 کو اس معاملے میں لازمی نظیر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس فیصلے میں پہلے سے موجود پانچ رکنی بینچ کے فیصلے بشیر کیس پر غور نہیں کیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر متعدد قتل کی سزاؤں کو بیک وقت چلانے کی اجازت دی جائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ ایک سے زائد افراد کے قتل کی سزا ایک ہی قتل کے برابر ہے جو انصاف اور قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہر انسانی جان کی اپنی الگ اہمیت ہے اور ہر قتل الگ سزا کا متقاضی ہے، لہٰذا ایسے مقدمات میں سزائوں کا مسلسل چلنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔