اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گورننس کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، بین الاقوامی معیار کے مطابق اصلاحات متعارف کرانے اور پاکستانی جامعات کی عالمی سطح پر مؤثر نمائندگی کے لئے جامع اقدامات کر رہا ہے۔ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورننس ایچ ای سی کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت جامعات، ایکریڈیٹیشن کونسلز اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایچ ای سی کمیشن کے دو اہم اجلاس منعقد کئے گئے جن میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق مختلف پالیسی فیصلے کئے گئے جبکہ ایکریڈیٹیشن کونسل کے بھی تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ ملک بھر کی جامعات کے دوروں کے دوران ادارہ جاتی مسائل، تدریسی معیار اور طلبہ کو درپیش مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ شواہد کی بنیاد پر اصلاحات متعارف کرائی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود 282 جامعات کو جدید تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے مرحلہ وار اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت اور شفافیت کے فروغ کے لئے ایچ ای سی نے ڈگریوں کی تصدیق کا نظام مکمل طور پر آن لائن اور پیپر لیس بنا دیا ہے جبکہ ای ٹکٹنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بتایا کہ مختلف شعبہ جات میں ایکریڈیٹیشن کونسلز کو ازسرِ نو فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل سائنسز، لائف سائنسز اور دیگر اہم شعبوں کے لئے 10 سے 12 نئی کونسلز بھی قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیار کو یقینی بنانے کے لئے متعدد ٹاسک فورسز تشکیل دی گئی ہیں جن کی سفارشات آئندہ چند ہفتوں میں موصول ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی جامعات کی عالمی رینکنگ بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں انٹرنیشنل رینکنگ کے حوالے سے بھی ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 30 تعلیمی پروگرام دنیا کی 50 سے 400 بہترین رینکنگ میں شامل ہو چکے ہیں جو ملکی اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لئے حوصلہ افزا ء پیشرفت ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ ملک میں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مختلف سنٹرز آف ایکسیلنس قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ 12 اداروں کو منسلک کیا گیا ہے جبکہ سائبر سکیورٹی کے میدان میں ایئر یونیورسٹی کے ساتھ بھی 12 اداروں کو مربوط کیا گیا ہے تاکہ تحقیق، تربیت اور جدید مہارتوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ معیار اور شفافیت کے فروغ کے لیے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے ذریعے لازمی ٹیسٹنگ متعارف کرائی گئی ہے جبکہ آئی ٹی گریجویٹس کے لیے نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ بھی منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے مزید کہا کہ نئی ڈوئل اور جوائنٹ ڈگری پالیسی کے نفاذ، 50 ہزار سے زائد زیر التوا ڈگری کیسز کے حل اور 125 پی ایچ ڈی کیسز نمٹانے سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامیت کے فروغ میں مدد ملے گی بلکہ پاکستانی طلبہ کو عالمی سطح پر تعلیم اور روزگار کے مزید بہتر مواقع بھی میسر آئیں گے۔