این آئی ٹی اے جی کے رکن ڈاکٹر شفیع کا ہر بچے کو مکمل حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے اور پولیو کے قطرے پلانے پر زور

این آئی ٹی اے جی کے رکن ڈاکٹر شفیع کا ہر بچے کو مکمل حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے اور پولیو کے قطرے پلانے پر زور

اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):معروف ماہر اطفال اورنیشنل امیومائیزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزی گروپ (این آئی ٹی اے جی)کے رکن پروفیسر ڈاکٹر خالد شفیع نے والدین پر زور دیا ہے کہ اپنے بچوں کو ہر مہم میں پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ پیدائش کے بعد کی مکمل ویکسینیشن اور بروقت بوسٹر ڈوز کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں قابل علاج بیماریوں سے اور ان کے صحت مند مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر خالد شفیع نے اس بات پر زور دیا کہ مکمل حفاظتی ٹیکوں اور پولیو کے قطروں کی کوریج والدین، صحت کے کارکنوں اور وسیع تر کمیونٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے 12 مئی سے 24 مئی تک 79 ہائی رسک اضلاع میں چلائی جانے والی پولیو بوسٹر ڈوز مہم کی توثیق کی اور اسے بچوں کو قابل علاج بیماریوں سے بچانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ بغیر کسی تاخیر کے تمام بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ حفاظتی ٹیکے لگانا محفوظ، سائنسی طور پر ثابت شدہ اور بچوں کو پولیو وائرس اور عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 70فیصد کے قریب بچوں کو مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں جبکہ تقریباً 30 فیصد کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ فرق صحت عامہ کیلئے سنگین خطرہ ہے اور اسے مستقل کوششوں کے ذریعے فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نچلی سطح پر بیداری کو مضبوط کرنے کے لیے اراکین پارلیمنٹ، میئرز، مقامی کونسلرز اور بااثر مذہبی اسکالرز اور کمیونٹی اماموں کے ساتھ مل کر سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز غلط فہمیوں کو دور کرنے اور ویکسینیشن کے خلاف پروپیگنڈ ہ کا مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد شفیع نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی اعتماد کو یقینی بنانے، ویکسین کی قبولیت کو بہتر بنانے اور تمام ہائی رسک والے علاقوں میں مکمل حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کے لیے اجتماعی آگاہی مہم اور کمیونٹی کی شمولیت ضروری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سوشل میڈیا پر ویکسین کے بارے میں درست معلومات پھیلانے، غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور صحت عامہ سے متعلق آگاہی مہم کی حمایت کریں اور ملک میں حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت سے آگاہی اور پولیو کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے میں مدد کریں۔