اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ایف آئی اے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی صرف 1978ء کے خصوصی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن قواعد کے تحت ہی کی جا سکتی ہے، سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 خود بخود ایف آئی اے پر لاگو نہیں ہوتے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ جنرل کلازز ایکٹ کی دفعہ 8 کے ذریعے خصوصی قواعد کو عمومی قواعد سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس منیب اختر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایف آئی اے کی جانب سے دائر چھ اپیلوں پر محفوظ فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایف آئی اے کی تمام اپیلیں مسترد کر دیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ 1974 کے تحت قائم ایف آئی اے کے ملازمین کے لیے وفاقی حکومت نے 1978ء میں خصوصی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز بنائے تھے جن کے ذریعے 1973ء کے قواعد کو مخصوص ترامیم کے ساتھ اپنایا گیا۔ بعد ازاں 2020ء میں سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز نافذ کیے گئے تاہم ایف آئی اے کے 1978ء کے خصوصی قواعد نہ تو منسوخ کیے گئے اور نہ ہی ان میں ایسی کوئی ترمیم کی گئی جس سے 2020ء کے قواعد ادارے پر لاگو ہو سکتے۔عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی سروس ٹربیونل نے درست طور پر یہ آبزرویشن دی کہ خصوصی قانون اور خصوصی قواعد کی موجودگی میں عمومی قواعد لاگو نہیں کیے جا سکتے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 8 صرف ان صورتوں میں لاگو ہوتی ہے جہاں کسی قانون میں دوسری قانون سازی کی مخصوص دفعات کا حوالہ دیا گیا ہو جبکہ ایف آئی اے کے 1978 قواعد میں پورے 1973 رولز کو ترامیم کے ساتھ اپنایا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر دفعہ 8 کا اطلاق اس معاملے پر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے 1978ء کے خصوصی قواعد عملاً غیر موثر ہو جائیں گے جو قانون کی منشا اور اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے ملازمین کے خلاف 2020 رولز کے تحت کی گئی محکمانہ کارروائیاں قانونی جواز نہیں رکھتیں، اس لیے وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلوں میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔