ایس آئی ایف سی کی موثر سہولت کاری سے سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور معاشی استحکام میں نمایاں کامیابیاں

ایس آئی ایف سی کی موثر سہولت کاری سے سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور معاشی استحکام میں نمایاں کامیابیاں

اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے قیام کا بنیادی مقصد خصوصی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور ملک میں سازگار کاروباری ماحول کو فروغ دینا ہے۔ بعض حلقے ایس آئی ایف سی کو ایسے اشاریوں کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو اس کے بنیادی مینڈیٹ میں شامل ہی نہیں۔

قانون کے مطابق ایس آئی ایف سی کا کردار سرمایہ کاری میں سہولت کاری، پالیسی سطح پر رابطہ کاری اور مختلف منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لانا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی پیدا کرنا بورڈ آف انویسٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایس آئی ایف سی ان منصوبوں کے موثر اور بروقت نفاذ میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی صرف اُن اہم معاملات پر فیصلے کرتی ہے جو ایگزیکٹو سطح پر حل نہ ہو سکیں۔ وزیراعظم کی جانب سے فراہم کردہ پالیسی فریم ورک کے تحت زیر التوا فیصلوں پر عملدرآمد جاری ہے اور متعلقہ فورمز کو پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے باعث گزشتہ چندسالوں کے دوران سرمایہ کاری کے متعدد تعطل کا شکار منصوبوں میں پیش رفت ممکن ہوئی ہے۔ جیٹ گرین ایئرلائن، 5G سپیکٹرم، معدنیات، زراعت، لائیو سٹاک اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کو فوری سرمایہ کاری تصور کرنا درست نہیں کیونکہ بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے فزیبلٹی سٹڈیز، قانونی منظوریوں اور مختلف ریگولیٹری مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔

ایس آئی ایف سی کے ’’سنگل ونڈو‘‘ ماڈل نے سرمایہ کاروں کو درپیش بین الادارہ جاتی پیچیدگیوں اور رکاوٹوں میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سمیت 20 سے زائد ممالک کے ساتھ معدنیات، توانائی، زراعت اور آئی ٹی کے 28 بڑے منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔عالمی معاشی دباؤ اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان ایک مربوط اور موثر سرمایہ کاری نظام کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔