اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران ۔امریکہ جنگ میں ایک غیر متوقع مگر مرکزی ثالث کے طور پر ابھرے ہیں ، سید عاصم منیر نے تہران پہنچ کر ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور امریکہ ا و ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لئے کی جانے والی آخری کوششوں کی قیادت کی۔ برطانوی ’’دی گارڈین ‘‘کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک غیر متوقع سفارتی پل کے طور پر سامنے آیا جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے براہ راست رابطوں، فون کالز اور ثالثی کے ذریعے دونوں قیادتوں کے درمیان اعتماد سازی کی جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سعودی عرب کا سفارتی دورہ پاکستان کی مربوط حکمت عملی کا مظہر ہے۔ ماہرین کے مطابق فوجی قیادت کا خارجہ پالیسی میں اہم کردار، امریکی صدر کا فوجی قیادت سے براہ راست رابطہ، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ برس میں واشنگٹن، ریاض اور تہران میں تعلقات کی مضبوطی، وائٹ ہاؤس کے دورے، سرمایہ کاری و دفاعی معاہدے، اور دیگر دور رس اقدامات نے ان کی ساکھ کو بلند کیا ہے ، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے انہیں پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دینا اس قربت کی علامت ہے۔
مزید برآں ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی، علاقائی حمایت کا حصول، اورموثر سفارت کاری میں مہارت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک قابلِ اعتماد ثالث بنایا ہے ۔’’دی گارڈین ‘‘کی رپورٹ کے مطابق سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس عمل کی اصل محرک قوت ہیں، ان کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا ۔ ماہر بین الاقوامی امور محمد مہدی کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل اس سارے عمل میں پیش پیش رہے ہیں، لیکن یہ ایک اجتماعی کوشش ہے اور حکومت اور فوج میں بہت سے افراد نے اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر ایویناش پلیوال کا کہنا ہے پاکستان کی وسیع سفارتی مہم کا تمام تر کریڈٹ کسی ایک شخص کو دینا درست نہیں۔ اس مہم میں اہم حکومتی وزراء نے ترکیہ، چین اور سعودی عرب کے دورے کیے تاکہ ہر سطح پر معاہدے کے لیے بھرپور حمایت حاصل کی جا سکے۔