اگلے دس برسوں کے دوران پاکستان سے تمباکونوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے،اے آر آئی سربراہ

اگلے دس برسوں کے دوران پاکستان سے تمباکونوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے،اے آر آئی سربراہ

اسلام آباد۔29مئی (اے پی پی):آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشی ایٹیو (اے آر آئی) اور اس کی ممبر تنظیموں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے کےلیے واضح مدت مقرر کی جائے۔اے آر آئی کے سربراہ ارشد علی سید نے انسداد تمباکونوشی کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگلے دس برسوں کے دوران پاکستان سے تمباکونوشی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ رواں برس انسداد تمباکونوشی کے عالمی دن کا موضوع نکوٹین اور تمباکو کی کشش اور لت کا مقابلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آر آئی اور اس کے پارٹنر پاکستان میں ٹوبیکو کنٹرول کے حوالے سے تمام سرکاری اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں اور غیر تمباکونوش افراد کو ہرقسم کی تمباکو مصنوعات سمیت کم نقصان دہ متبادل مصنوعات کے استعمال سے دور رکھنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی اب بھی تمباکو کے استعمال کی سب سے بڑی شکل ہے۔ اندازاً 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد تمباکونوشوں میں سے 1 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔پاکستان نے 2005 میں عالمی ادارہ صحت کے تحت تمباکونوشی کے خاتمے کے طریقہ کار کی توثیق کی جسے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف شکلوں میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں ترک تمباکو نوشی کی مؤثر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث سگریٹ نوش اپنے طور پر اس عادت کو چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 3 فیصد سے بھی کم سگریٹ نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ارشد علی سید نے کہا کہ اگر ترک تمباکونوشی کی سہولیات کو بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کی جانب پہلا قدم اٹھا سکتا ہے۔ بالغ سگریٹ نوش جو بارہا کوششوں کے باوجود بھی اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں ناکام ہیں، انہیں مدد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو ضلعی، تحصیل، اور یونین کونسل کی سطح پر بالغ سگریٹ نوشوں تک پہنچنا چاہیے، خصوصی طور پر ان تک جو کئی بار کوشش کرنے کے باوجود اپنی اس عادت کو چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمباکونوشی ترک کرنے کے فوائد فوری اور دیرپا ہوتے ہیں۔ جس دن کوئی تمباکونوش سگریٹ نوشی ترک کرتا ہے، جسم اسی دن زہریلے مادوں کو خارج کرنا شروع کر دیتا ہے اور جسمانی بحالی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی ترک کرنے کے صرف 20 منٹ بعد دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر معمول پر آنا شروع ہو جاتے ہیں جب کہ 12 گھنٹوں کے اندر خون میں کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح معمول پر آ جاتی ہے۔ 1 سے 9 ماہ کے اندر کھانسی اور سانس پھولنے کی شکایت میں کمی آجاتی ہے جب کہ ایک سال کے بعد دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ ایک سگریٹ نوش کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ جاتا ہے۔

تمباکو نوشی چھوڑنے کے 5 سے 15 سال کے بعد فالج کا خطرہ ایک غیر سگریٹ نوش شخص کے برابر ہو جاتا ہے۔ارشد علی سید نے پاکستان میں کم نقصان دہ متبادل مصنوعات کےلیے خطرے کی مناسبت سے پالیسیاں بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمباکونوشی کے خاتمے کے لیے متبادل مصنوعات اور ترکِ تمباکو نوشی کی مؤثر سہولیات سے استفادے سمیت مستقبل کے لحاظ سے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تین جہتوں پر مشتمل پالیسی ہی کی مدد سے پاکستان تمباکونوشی سے پاک مستقبل کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔