اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے کہا ہے کہ سرحد پار منظم جرائم، سائبر کرائم، منی لانڈرنگ، سمگلنگ نیٹ ورکس اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لئے رکن ممالک کے درمیان زیادہ مربوط اور عملی علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے اٹارنیز جنرل اور پراسیکیوٹرز جنرل کے 23 ویں ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کی میزبانی پاکستان نے کی۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام رکن ممالک کے اٹارنیز جنرل، پراسیکیوٹرز جنرل اور سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں عوامی جمہوریہ چین کی سپریم پیپلز پروکیوریٹوریٹ کے پراسیکیوٹر جنرل ینگ یونگ، روسی فیڈریشن کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل یوری پونوما روف، جمہوریہ بیلاروس کے پراسیکیوٹر جنرل دیمتری گورا، جمہوریہ بھارت کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل بریجندر چہار، اسلامی جمہوریہ ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد مواحدی آزاد، جمہوریہ قازقستان کے پراسیکیوٹر جنرل بیرک آسیلوف، جمہوریہ کرغزستان کے پراسیکیوٹر جنرل مکسات آسانالییف، جمہوریہ تاجکستان کے پراسیکیوٹر جنرل وحیدزودہ حبیب اللہ سعید اللہ اور جمہوریہ ازبکستان کے پراسیکیوٹر جنرل نگمت اللہ یولداشیف شریک ہوئے۔
اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کے نائب سیکرٹری جنرل اولیگ کوپیلوف اور تنظیم کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ڈائریکٹر اولاربیک شارشیف نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اٹارنی جنرل پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید دور کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس ریاستوں کے درمیان موجود قانونی اور ٹیکنالوجی کے خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن کے مؤثر تدارک کے لئے مشترکہ حکمت عملی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قومی قانونی نظام تنہا بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا مؤثر خاتمہ نہیں کر سکتا، اس لئے باہمی قانونی معاونت، معلومات کے تبادلے، اثاثہ جات کی واپسی کے نظام اور پراسیکیوشن اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
منصور عثمان اعوان نے پاکستان کے باہمی قانونی معاونت کے قانون 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی فوجداری تعاون کے لئے اپنے قانونی ڈھانچے کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ پراسیکیوشن اداروں کے درمیان روابط، استعداد کار میں اضافے، تربیتی و تبادلہ پروگرامز اور بروقت قانونی تعاون کے لئے ادارہ جاتی روابط کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دیں۔اجلاس میں آئندہ تعاون کے عملی پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا جبکہ شرکاء نے حکومت پاکستان اور دفتر اٹارنی جنرل پاکستان کا اجلاس کے انعقاد اور رکن ممالک کے درمیان قانونی تعاون کے فروغ کے لئے تعمیری مکالمے کی سہولت پر شکریہ ادا کیا۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ رکن ممالک آئندہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس جو کازان میں منعقد ہوگا، سے قبل باہمی تعاون اور روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے۔