اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کا تعلق دیرینہ اور اصولی ہے، پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور منصفانہ عالمی نظام کا مضبوط حامی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کا تعلق دیرینہ اور اصولی ہے، پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور منصفانہ عالمی نظام کا مضبوط حامی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےکہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کا تعلق دیرینہ اور اصولی ہے، ہم دنیا کے مشکل ترین خطوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں، پاکستان نے نوآبادیات کے خاتمے، حق خودارادیت، تنازعات کی روک تھام، خودمختار مساوات اور بین الاقوامی تعاون کی ہمیشہ حمایت کی ہے، برسوں سے پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا مضبوط حامی رہا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کی چینی صدارت کے دوران اس اہم کھلے مباحثے کا انعقاد کیا، ان کی قیادت اور موجودگی کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور سے چین کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

منگل کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے بعنوان ’’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کا پاس اور اقوام متحدہ کے مرکزیت والے بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانا‘‘ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا میں تقسیم گہری ہو رہی ہے اور بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کے مرکزیت والے مضبوط عالمی نظام کے لیے چین کی آواز نہایت بروقت اور اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بھی ان کی بصیرت افروز بریفنگ اور اصولی قیادت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کا منشور ایک ایسے عظیم سانحے کے بعد وجود میں آیا جس نے دنیا بھر میں تباہی اور بے پناہ انسانی تکالیف کو جنم دیا، ہم نے اجتماعی طور پر اس منشور کے ذریعے عہد کیا کہ بین الاقوامی تعلقات کو اس انداز سے چلایا جائے گا جو آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ منشور محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ عالمی نظام کی اخلاقی بنیاد ہے، یہ ریاستوں کی خودمختار مساوات کی توثیق کرتا ہے، طاقت کے استعمال یا دھمکی کی ممانعت کرتا ہے، تنازعات کے پرامن حل پر زور دیتا ہے، اقوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کونسل کو عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری سونپتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے منشور کے یہ اصول مقدس حیثیت رکھتے ہیں، یہی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد، عالمی روابط کا محور اور امن و سلامتی کے لیے ہماری خدمات کا رہنما فریم ورک ہیں۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کا تعلق دیرینہ اور اصولی ہے، ہم دنیا کے مشکل ترین خطوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں، پاکستان نے نوآبادیات کے خاتمے، حق خودارادیت، تنازعات کی روک تھام، خودمختار مساوات اور بین الاقوامی تعاون کی ہمیشہ حمایت کی ہے، برسوں سے پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا مضبوط حامی رہا ہے، ہمیں خوشی ہے کہ سلامتی کونسل نے جولائی 2025ء میں پاکستان کی پیش کردہ قرارداد 2788 کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے اس مقصد کی مکمل حمایت کی، اس قرارداد نے ایک اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ سفارتکاری کمزوری نہیں، مکالمہ کوئی رعایت نہیں اور تنازعات کا پرامن حل آخری راستہ نہیں بلکہ منشور کے تحت ریاستوں کی اولین ذمہ داری ہے، یہی یقین مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بنیاد ہے۔

ایران کے دوست ہمسایہ، خلیجی ممالک کے برادر ملک اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات رکھنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان نے ہمیشہ تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کی واپسی کی حمایت کی ہے۔ 31 مارچ کو بیجنگ کے ایک روزہ دورے کے دوران وزیر خارجہ وانگ ژی کی دعوت پر پاکستان اور چین نے ’’خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام‘‘ کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک اور طویل تنازع کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا، اس سے علاقائی امن خطرے میں پڑے گا، عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوگی، انسانی بحران مزید سنگین ہوگا اور پہلے سے کمزور عالمی نظام پر مزید دبائو بڑھے گا، آگے بڑھنے کا راستہ صرف سفارتکاری ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام اور بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، ہم اس عظیم مقصد کے لیے عزم و استقلال کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان پر اعتماد کیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے تمام شراکت داروں خصوصاً چین، سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور قطر کا تعاون پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

پوری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور علاقائی و عالمی امن کے مفاد میں ہمیں کامیاب ہونا ہوگا۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازعات کے پرامن حل کا اصول سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام دیرینہ مسائل پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کا تنازع سلامتی کونسل کی واضح قراردادوں کے باوجود حل طلب ہے جن میں کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن انکار، یکطرفہ اقدامات یا جبر کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کی کوششیں بھی ناقابل قبول ہیں، کیونکہ یہ معاہدہ آبی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے، معاہدوں کا احترام ہونا چاہیے اور تنازعات کو بین الاقوامی قانون، مکالمے، انصاف اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہی اصول فلسطین پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ جب تک قبضہ، اجتماعی سزا، جبری بے دخلی اور غیرقانونی بستیوں کی توسیع جاری رہے گی، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال مسلسل تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور ہماری مسلسل توجہ کی متقاضی ہے۔ دو ریاستی حل سے متعلق نیویارک کانفرنس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے ،جسے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی توثیق حاصل ہے، سے پیدا ہونے والی پیش رفت کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست ،جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ آج عالمی نظام کا بحران اصولوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے منتخب اطلاق کی وجہ سے ہے۔

جب ایک جگہ خودمختاری کا دفاع کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ اسے نظرانداز کیا جاتا ہے تو منشور کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب ایک خطے میں قبضے کی مذمت کی جاتی ہے اور دوسرے خطے میں اسے برداشت یا حمایت دی جاتی ہے تو انصاف مجروح ہوتا ہے۔ جب سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ انتخابی بنیادوں پر دیا جاتا ہے تو اس کونسل کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور جب طاقتور ممالک قانون سے بالاتر ہو کر عمل کرتے ہیں تو چھوٹے ممالک یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آیا منشور واقعی سب کو برابر تحفظ دیتا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخابی رویہ خطرناک ہے۔ یہ بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، شکایات کو بڑھاتا ہے، یکطرفہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسی کثیرالجہتی نظام کو کمزور کرتا ہے جسے ہم مضبوط بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مرکزیت والے عالمی نظام کو صرف اسی صورت مضبوط بنایا جا سکتا ہے جب مستقل مزاجی، مساوات اور قانون کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔

کثیرالجہتی نظام کا مطلب چند طاقتوں کے ذریعے دنیا کا انتظام نہیں بلکہ تمام اقوام کی شرکت، آواز اور وقار ہونا چاہیے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کی حمایت کرتا ہے تاکہ اسے زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جوابدہ اور موثر بنایا جا سکے۔ اصلاحات کا مقصد مراعات میں اضافہ یا نئے مستقل طاقتور مراکز قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اصلاح شدہ کونسل کو وسیع رکنیت خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے اجتماعی مفادات کی عکاسی کرنی چاہیے۔ منتخب غیر مستقل نشستوں میں علاقائی بنیادوں پر اضافہ اور طریقہ کار میں بہتری ہی آگے بڑھنے کا منصفانہ اور قابل عمل راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ منشور کے مقاصد اور اصول ہم سے یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ ہم عدم تحفظ کے بنیادی اسباب کا ازالہ کریں جن میں غیرملکی قبضہ، حقِ خودارادیت سے محرومی، غربت، عدم مساوات، نسل پرستی، اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر، موسمیاتی ناانصافی، قرضوں کا بوجھ اور پسماندگی شامل ہیں۔

امن صرف بندوقوں کی خاموشی کا نام نہیں بلکہ انصاف، شہریوں کے تحفظ، انسانی وقار، ترقی کے مواقع اور مساوی حقوق کی امید کا نام ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ آج بھی ناگزیر ہے۔ اگرچہ اسے اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دنیا کو منشور کے ساتھ نئے عزم کی ضرورت ہے۔ دنیا کو ایسی سلامتی کونسل درکار ہے جو جنگوں پر صرف بحث نہ کرے بلکہ انہیں روکے، ایسی کثیرالجہتی سفارتکاری جو کمزوروں کا تحفظ کرے،ایسا نظام جو تنازعات کے پھوٹنے سے پہلے حرکت میں آئے، ایسا انصاف جو انتخابی نہ ہو، ایسا امن جو عارضی نہ ہو اور ایسا قانون جو اختیاری نہ ہو۔

محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک منقسم دنیا میں اقوام متحدہ کا منشور ہمارا مشترکہ ذریعہ اظہار ہے۔ تصادم کے اس دور میں یہ ہمارا مشترکہ دفاع ہے اور بحران کے لمحوں میں یہی ہمیں دوبارہ امن کی راہ دکھاتا ہے۔نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے تمام اراکین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے تحفظ، اقوام متحدہ کے مرکزیت والے عالمی نظام کو مضبوط بنانے اور ایک منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے کام کرنے کو تیار ہے جہاں طاقت قانون کی پابند ہو، تنازعات مکالمے کے ذریعے حل ہوں اور امن انصاف کے ذریعے قائم ہو۔