اقوام متحدہ ۔25اپریل (اے پی پی):اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی اور کثیرالجہتی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسداد دہشت گردی اور پاکستان مشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشت گردی اور ٹیکنالوجی کے گٹھ جوڑ سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے، مضبوط ڈیجیٹل نظام اور مؤثر بین الاقوامی فریم ورک ناگزیر ہیں۔تقریب، جس کا عنوان “دہشت گردی کے نئے اور ابھرتے رجحانات” تھا، میں سفارتکاروں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی مشترکہ صدارت پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد اور اقوامِ متحدہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زوئیف نے کی۔
اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب نے انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات جیسے کہ نسل پرستی، عدم برداشت اور اسلاموفوبیا کو بھی دہشت گردی کے فروغ کا سبب قرار دیا اور ان کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر کے اپنے نیٹ ورکس کو مضبوط بنا رہے ہیں۔اجلاس میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت ، سوشل میڈیا، کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل ٹولز دہشت گردوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور قوانین میں بہتری ضروری ہے۔
تقریب کے شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے اس کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ، نفرت انگیز مواد کی روک تھام، اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک ناگزیر ہے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جباقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے نویں جائزے پر غور کر رہی ہے، جس میں ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔