اسلام آباد۔29مئی (اے پی پی):داعش کی خراسان شاخ (داعش-خراسان) کی جانب سے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس میں دہشت گردوں کی بھرتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان اب صرف ایک تنازعہ زدہ ملک نہیں رہا بلکہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ روس کی وفاقی سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورٹنیکوف نے آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے شہریوں کے علاوہ روس میں مقیم تارکین وطن کو بھی دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق انہوں نے کہا کہ سی آئی ایس ممالک میں خفیہ دہشت گرد نیٹ ورکس قائم کیے جا رہے ہیں، مالی وسائل کے راستے بنائے جا رہے ہیں اور دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بورٹنیکوف نے بتایا کہ ایف ایس بی نے تاجکستان کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر رواں سال ایک دہشت گرد سیل کو بے اثر بنایا جو بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان کی ریاستی سکیورٹی سروس کے تعاون سے روس کے مختلف علاقوں بشمول ماسکو میں پانچ دہشت گرد حملوں کو منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہی ناکام بنایا گیا۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے افغانستان کے ساتھ روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق داعش خراسان کی جانب سے وسطی ایشیا سے لے کر روس میں مقیم تارکین وطن تک بھرتیوں کا دائرہ وسیع ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان خطے میں انتہا پسندوں کی منظم بھرتی، نیٹ ورکنگ اور دہشت گردی کے فروغ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آئی ایس ممالک میں دہشت گرد خلیوں، خفیہ مالیاتی نظام اور حملوں کی منصوبہ بندی کے ڈھانچے کا پھیلاؤ اس وسیع جہادی نیٹ ورک کی عکاسی کرتا ہے جو افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم، امریکی ادارے سیگار، روسی حکام اور علاقائی سکیورٹی رپورٹس بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں اور تقریباً 20 ہزار سے 23 ہزار جنگجو موجود ہیں، جن میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اندازاً 2 ہزار سے 3 ہزار داعش خراسان جبکہ 5 ہزار سے 7 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور انتہا پسند تنظیموں کی بھرتی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں موجود یہ صورتحال اب صرف داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی، شدت پسندی اور سرحد پار حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔