اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مذاکرات کے تاریخی لمحے کو ملک کے 24 کروڑ عوام کے لیے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پر خلوص ،مثبت اور تاریخی کردار پر عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے، امریکہ اور ایران نے 47 سال بعد ہماری دعوت پر اعلی سطح پر براہ راست مذاکرات کئے ہیں،مذاکرات میں کئی لمحات ایسے آئے کہ بات ٹوٹتے ٹوٹتے جڑتی رہی،ہماری پرخلوص کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک جنگ بندی برقرار ہے،تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں،دونوں ممالک کے وفود نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بھرپور تعریف کی ہے اورپاکستان کے اخلاص،میزبانی اور ثالثی کا دل سے اعتراف کیا ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فراست اور حکمت سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امن کے لیے کردار کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پچھلے 47 سال کے دوران ہمیشہ بلواسطہ بات چیت ہوئی لیکن دونوں ممالک کے اعلی سطحی وفود ہماری دعوت پر پاکستان میں آئے ،اس کے لیے عزیز بھائی ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہماری دعوت پر اپنے وفود پاکستان بھجوائے اور مذاکرات سے پہلے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے پاکستان کو میزبانی، ثالثی اور امن قائم کرنے کا ایسا موقع ملا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور یہ تاریخی لمحہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے باعث فخر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کا موقع ملا،دنیا کی تاریخ میں اوسلو ،جنیوا ،گڈ فرائیڈے معاہدے موجود ہیں اسی طرح سوڈان اور دوسرے علاقوں میں جنگ بند کرانے اور امن قائم کرنے میں کئی کئی ماہ اور کئی کئی سال لگے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان بلواسطہ نہیں بلکہ بلاواسطہ آمنے سامنے 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے اور میں اس کا گواہ ہوں ، اس کے لیے پاکستان کی قیادت نے دن رات محنت کی، پاکستان کی پرخلوص کاوشوں کی وجہ سے جنگ بندی آج بھی قائم ہے اور جو معاملات بھی اٹکے ہوئے ہیں ان کو حل کرانے کے لیے پوری کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات تاریخی اقدام ہیں، پاکستان کو ثالثی اور میزبانی کا موقع ملا،ایسے حالات میں جب پوری دنیا کی معیشت ہچکولے کھا رہی ہے، آج میری جاپان کی وزیراعظم سے بھی فون پر گفتگو ہوئی ہے، انہوں نے مجھے مبارکباد دی کہ پاکستان امن کے لیے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے، اسی طرح کئی یورپی رہنمائوں نے بھی مجھے فون کیے اور پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی طرف سے تعاون کی پیشکش کی۔وزیراعظم نے کہا کہ جنگ بندی اور امن کے قیام اور مذاکرات کے لیے دن رات کاوشیں کرنے پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور خاص طور پر چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو اپنی طرف سے، وفاقی کابینہ کی طرف سے اور پوری قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں،ان کی فراست اور حکمت سے جنگ بند ہوئی اور عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، میں ایسے لمحات کا گواہ ہوں، بطور وزیراعظم میری ذمہ داری ہے قومی رازوں کا امین ہوں لیکن جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی وہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پوری پوری رات کاوشیں کیں اور کئی لمحات ایسے آئے کہ بات ٹوٹتے ٹوٹتے جڑتی رہی ، انسان کا کام کوشش اور محنت کرنا ہے، اس کو قبولیت اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے،خلوص نیت سے ہی کوششوں کو کامیابی ملتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، انہوں نے الگ الگ گفتگو کی لیکن بات ایک ہی دہرائی پاکستان کی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بھرپور تعریف کی اور پاکستان کے اخلاص اور ثالثی کا دل سے اعتراف کیا کہ پاکستان نے بھائیوں جیسا کردار ادا کیا ہے، یہ مثبت اور تاریخی کردار اللہ تعالی نے پاکستانی قوم اور قیادت کو عطا کیا ہے،جہاں ہمارے سر فخر سے بلند ہیں وہاں ہمیں عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ بڑے نازک لمحات میں پاکستان کی قیادت نے اپنا فریضہ نبھایا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 47 سال سے دو ممالک ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہیں تھے لیکن امن اور ہزاروں لاکھوں معصوم جانوں کو بچانے کے لیے اللہ تعالی نے پاکستان کو یہ موقع اور عزت عطا فرمائی،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےجس طرح کاوشیں کی ہیں ان کا کردار تاریخ ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھے گی، قوم دیر پا امن کے لیے دعائیں کرے۔
انہوں نے کہا کہ پر خلوص ،مثبت اور تاریخی کردار پر عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا ہے، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک کے لیے ہی نہیں دنیا کے لیے پرخلوص کوششیں کی ہیں تاکہ معصوم جانیں بچ جائیں کیونکہ اس سے بڑی اور کوئی خدمت نہیں ہو سکتی۔اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخ ساز امن مذاکرات کے انعقاد پر وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے جنہوں نے اپنے معاونین کے ہمراہ انتھک لگن، محنت اور تدبر کے ساتھ دو متحارب فریقین کو اکٹھے بٹھاکر تقریباً نصف صدی پر محیط تعطل کا خاتمہ کیا۔
وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کو خطے کی صورتحال اور پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ رب ذوالجلال کے حضور سجدہ شکر ادا کرتی ہے کہ اس نے وطن عزیز پاکستان کو موقع دیا کہ وہ خطے اور دنیا میں قیام امن کیلئے مرکزی کردار ادا کرے۔ ہم ایران اور امریکہ کے درمیان ان تاریخ ساز امن مذاکرات کے انعقاد پر وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے معاونین کے ہمراہ انتھک لگن، محنت اور تدبر کے ساتھ دو متحارب فریقین کو اکٹھے بٹھا دیا اور تقریباً نصف صدی پر محیط تعطل کا خاتمہ کیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ بالخصوص نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے راتوں کو جاگ کر انتہائی احسن طریقے سے معاملات کو نبھایا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امن کے اس سفر میں انہیں کامیابیاں عطا فرمائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بلاشبہ اقوام عالم کی تاریخ میں پاکستان کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہماری دعا ہے کہ پاکستانی قیادت کی یہ پر خلوص کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور دنیا میں قیام امن کا باعث بنیں۔