اسلام آباد مذاکرات، پاکستان نے امریکہ–ایران کشیدگی میں سفارتی پل بن کر عالمی اعتماد جیت لیا، حافظ احسان احمد کھوکھر

اسلام آباد مذاکرات، پاکستان نے امریکہ–ایران کشیدگی میں سفارتی پل بن کر عالمی اعتماد جیت لیا، حافظ احسان احمد کھوکھر

اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):سینئر قانون دان اور ماہر آئینی و بین الاقوامی امور حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں واضح پختگی اور توازن نظر آتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی طاقتیں اسلام آباد کو ایک سنجیدہ اور قابلِ بھروسہ مذاکراتی پل کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ اسلام آباد مذاکرات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کی سہولت کاری میں ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر تو ختم نہیں ہوئے، تاہم انہوں نے سفارتی عمل کو زندہ رکھا، جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں مدد دی اور یہ واضح کیا کہ دیرینہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق پاکستان نے 8 فروری سے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا، جو 1979 کے بعد ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیر جانبداری، متوازن پالیسی اور اعلیٰ سطحی سول و عسکری قیادت کی مربوط حکمت عملی نے اسے ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھارا ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کی اس تعمیری کاوش کو سراہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ عملی اہمیت کا حامل ہے۔

ان کے مطابق جنگ بندی کا برقرار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ فریقین کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے اور سفارتکاری کو ہی آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے تحفظات ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں سلامتی سے متعلق ہیں، جبکہ ایران اپنے مؤقف میں خودمختاری، پرامن جوہری حق اور پابندیوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیچیدہ معاملات فوری طور پر حل نہیں ہو سکتے بلکہ مرحلہ وار اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے ہی پیش رفت ممکن ہے۔ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ 2015 کا جوہری معاہدہ (جے سی پی او اے)اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے جس نے ثابت کیا کہ مشکل ترین تنازعات بھی بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، تاہم 2018 میں اس معاہدے کے خاتمے نے کشیدگی میں اضافہ کیا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال یا دباؤ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے مستقل، سنجیدہ اور منظم سفارتکاری ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ مذاکرات کے تسلسل کو بھی یقینی بنایا، جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ، ایران، چین، روس، یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، قطر، ترکی، کینیڈا، آسٹریلیا اور اٹلی سمیت اہم عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے تین بڑے نتائج سامنے آئے ہیں جن میں مکالمے کی بحالی، جنگ بندی کا تسلسل اور سفارتکاری کی اہمیت کا دوبارہ اعتراف شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار ایک ابھرتی ہوئی سفارتی قوت کے طور پر عالمی سطح پر مزید مضبوط ہو رہا ہےجو ایک منقسم دنیا میں ہم آہنگی اور استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔