اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ ازبکستان کے اشتراک سے ایک روزہ بین الاقوامی تقریبِ رونمائی کتب کا انعقاد کیا گیا جس میں علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں اُردو-ازبک مشترک الفاظ کی لغت اور بیسویں صدی کے افسانے جیسی اہم کتب کی رونمائی کی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ازبکستان کے سفیر علی شیر تختوف نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ازبکستان صدیوں پر محیط مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، اُخوت اور علمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے ایسے ادبی و ثقافتی پروگرام نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُردو اور ازبک زبانوں کے مشترک الفاظ پر مبنی لغت دونوں قوموں کے علمی روابط کو مزید مستحکم کرے گی اور نئی نسل کو ایک دوسرے کی تہذیب، زبان اور تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ سفیرِ ازبکستان نے دونوں مصنفین اور ادارۂ فروغِ قومی زبان کو اس اہم علمی خدمت پر مبارکباد دی۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگرزیب خان کھچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں مصنفین نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اُنہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی علمی و ادبی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ اُنہوں نے تجویز دی کہ ازبک ڈکشنری کو آن لائن بھی دستیاب کیا جائے تاکہ عام لوگوں کو اس سے زیادہ سہولت حاصل ہو سکے۔تقریب میں سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو قومیں اپنی تاریخ بھول جاتی ہیں وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، ہم جب کسی علاقے میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں کی تاریخ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ، پاکستان کے بھی ہر حلقے کی اپنی ایک ثقافت ہے جسے مزید اجا گر کرنے کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے ڈاکٹر تاش مرزا اور پروفیسر محیہ عبدالرحمنوا کو مبارکباد دی۔ وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمن گیلانی نے کہا کہ آج کی تقریب محض دو کتب کی رونمائی نہیں بلکہ پاکستان اور ازبکستان کی پائیدار دوستی کا عملی مظہر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف ثقافتی نہیں بلکہ تاریخی، علمی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ علوم، فنون اور ثقافت کی روشنی نے ان خطوں کو ہمیشہ منور رکھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُردو زبان میں دنیا کی مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہیں جو اس کی وسعت اور ہمہ گیری کا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے دونوں مصنفین اور ادارۂ فروغِ قومی زبان کو اس کامیاب علمی کاوش پر مبارکباد دی ۔ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ دنیابھر میں قوموں کو قریب لانے والے لوگوں میں سب سے زیادہ تعداد شعرا اور ادبا کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاش مرزا اور پاکستانی ادب ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ۔ یہ تاش مرزا کی تیسری کتاب ہے جو ادارہ کی جانب سے شائع ہو رہی ہے ۔ میرے خیال میں فکری اور ادبی کام دیر پا ہوتے ہیں اور یہی قوموں کی قسمت بدلتے ہیں ۔ زبان ڈاکٹر تاش مرزا خالمِرزائف اور پروفیسر محیہ عبدالرحمنوا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مصنفین نے نہایت دلجمعی اور محنت سے اس علمی منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اُنہوں نے کہا کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُردو۔ازبک مشترک الفاظ کی لغت اور دیگر اہم کتب اسی پلیٹ فارم سے شائع ہوئیں۔ آخر میں اُنہوں نے تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد تیمور اکرم ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی آر سی سی ایف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کی بنیاد ظہیر الدین بابر اور امیر تیمور کے عہد سے جڑی ہوئی ہے۔ ملتانی آرٹ سمرقند اور بخارا سے برصغیر آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ازبکستان کے تعاون سے اسلام آباد میں بابر پارک تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ دنیا کا سب سے بڑا اسلامی سینٹر بھی ازبکستان میں قائم کیا گیا ہے جہاں اسلامی تاریخ کو جدید انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے دونوں مصنفین کو مبارکباددیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ثقافتی ورثے کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں۔عادل مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اپنے والد ڈاکٹر تاش مرزا خالمِرزائف کی جانب سے شرکا کے شکر گزار ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کو قریب تر لانے کے لئے لاہور سے تاشقند کے لئے فلائٹ سروس شروع کی گئی ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے عوامی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب صرف دو گھنٹے میں سمرقند اور بخارا تک رسائی ممکن ہے۔ پروفیسر محیہ عبدالرحمنوا نے تقریب سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے بابرکت مہینے میں ان دونوں کتب کی تقریبِ رونمائی پر دلی خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ اُنہوں نے سفیرِ ازبکستان کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لغت کی تدوین سوئی سے کنواں کھودنے کے مترادف ہے اور یہ ایک نہایت محنت طلب کام ہے۔میں تاش مرزا کو اس لغت کی تدوین پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو کتب پیش کی گئیں۔