اسلام آباد۔10مئی (اے پی پی):معروف ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا ہے کہ احتیاط، صفائی، موثر نگرانی اور عوامی آگاہی کے ذریعہ کانگو وائرس کے پھیلائو پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ کانگو بخار نہایت خطرناک اور ممکنہ طور پر ایک جان لیوا وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر مویشیوں پر موجود چچڑیوں کے ذریعہ انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں متاثرہ جانور کے خون یا جسمانی رطوبت کے ساتھ براہ راست رابطہ سے بھی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ دنیا میں پہلی مرتبہ 1940 میں اس طرح کے کیسز کریمیا میں رپورٹ ہوئے جبکہ پاکستان میں کانگو وائرس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1976 میں رپورٹ ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، شدید جسمانی درد، متلی اور قے، گلے کی سوزش، جلد پر سرخ دھبے، مسوڑھوں یا اندرونی اعضا سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص ، صفائی، موثر نگرانی اور عوامی سطح پر آگاہی کے ذریعہ اس مرض کے پھیلائو پر قابو پایا جا سکتا ہے۔