آمدہ بجٹ میں کاروباری برادری کی تجاویز شامل ہوں گی، حکومت کا اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل تیز،بلال اظہر کیانی

آمدہ بجٹ میں کاروباری برادری کی تجاویز شامل ہوں گی، حکومت کا اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل تیز،بلال اظہر کیانی

اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات کو قومی معیشت کا بنیادی ستون بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ترقی کے ثمرات کو معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے اہم مراحل کامیابی سے مکمل کیےجس کےنتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کوکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری، برآمد کنندگان اور میڈیا نمائندگان کے ساتھ تفصیلی اور تعمیری نشست کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا جس میں آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کو کاروباری ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیا گیا۔وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر مملکت نے اس موقع پر چیمبر قیادت، معروف کاروباری رہنماؤں جاوید بلوانی اور زبیر موتی والا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور اس نوعیت کی مشاورتی نشستیں قومی مالیاتی ترجیحات کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں حکومت ملک بھر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز سےمشاورت کر رہی ہے تاکہ برآمد کنندگان، تاجروں اور صنعتکاروں کی آراء کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل وزیر اعظم کی ہدایت پر جاری ہے تاکہ معیشت کے تمام شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع پالیسی سازی ممکن بنائی جا سکے۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ اس سلسلے میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور چھوٹے تاجروں و کاروباری تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتوں کا شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فروری 2024 کے بعد پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہےجس میں مہنگائی پر قابو، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور بیرونی کھاتوں میں استحکام شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے اہم مراحل کامیابی سے مکمل کیےجس کےنتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔وزیر مملکت نے ماضی کے معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ درآمدات پر مبنی ترقی کے باعث “بوم اینڈ بسٹ” کا چکر بارہا دہرایا گیاجس سے نکلنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کا انحصار برآمدات، پیداواری صلاحیت اور صنعتی مسابقت پر ہونا چاہیے۔انہوں نے حکومت کی جانب سے برآمدات کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے”ایکسپورٹرز ریکگنیشن ایوارڈز” کا ذکر کیاجس کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے برآمد کنندگان کو سراہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت برآمدات کو قومی معیشت کا بنیادی ستون بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ترقی کے ثمرات کو معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے مختلف شعبوں کے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل نو ورکنگ گروپس قائم کیے ہیں جو طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے ٹھوس تجاویز تیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ گروپس حکومتی اداروں اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے اور بنیادی رکاوٹوں کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔توانائی کےشعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق کیا جاتا ہے اور عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر حکومت نے مالیاتی ایڈجسٹمنٹ اور ہدفی سبسڈی کے ذریعے عوام، خصوصاً کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کیا۔انہوں نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سول و عسکری قیادت نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہےجبکہ حکومت نے علاقائی کشیدگی کے معاشی اثرات کو بھی مؤثر انداز میں سنبھالا ہے۔

اپنے اختتامی خطاب میں وزیرمملکت نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل رابطہ اور مشاورت آئندہ بھی حکومتی معاشی پالیسی سازی کا اہم حصہ رہے گا۔نشست کے اختتام پر برآمد کنندگان نے آئندہ فنانس بل 2026-27 کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وزیر مملکت نے یقین دہانی کرائی کہ ان تجاویز کو بجٹ سازی کے عمل میں سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ اقدامات کا پیشگی اعلان مناسب نہیں اور اس مشاورتی عمل کا مقصد ہی مختلف طبقات کی آراء کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ہے۔