اقوام متحدہ ۔17اپریل (اے پی پی):پاکستان نے ایران سے متعلق جاری تنازعے میں ثالثی کی اپنی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں پائیدار امن پر زور دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چین اور روس نے 7 اپریل کی سلامتی کونسل قرارداد پر ویٹو کی وضاحت پیش کی۔اے پی پی کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے جس میں رکاوٹ سے دنیا بھر کے ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایران تنازع کے باعث نہ صرف توانائی بلکہ کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے جس سے خاص طور پر غریب طبقات کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی سطح پر مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھے جن کا مقصد حملوں کا خاتمہ اور دیرپا امن کا قیام ہے۔دوسری جانب چین اور روس نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کرنے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ قرارداد یکطرفہ تھی اور تنازع کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرتی تھی۔روسی مندوب نے کہا کہ قرارداد میں ایسے عناصر شامل تھے جو طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کر سکتے تھے جبکہ چینی مندوب کا کہنا تھا کہ ان کا ویٹو عالمی انصاف اور امن کے قیام کے لیے ضروری تھا۔ایران کے نمائندے نے بھی چین اور روس کے ویٹو کو بروقت اور درست قرار دیتے ہوئے اسے اپنے مؤقف کی حمایت قرار دیا جبکہ امریکا اور اسرائیل پر جارحیت کا الزام عائد کیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ عالمی مفاد میں ہے، امن کی بحالی تمام فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔