اسلام آباد۔25مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، مہنگائی دوبارہ دوہرے ہندسوں میں داخل ہو چکی ہے اور اپریل 2026ء میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی کااجلاس پیر کو یہاں چیئرمین سیدنویدقمرکی زیرصدارت منعقد ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ بالواسطہ ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی پر مسلسل انحصار اوریکس نیٹ کو پائیدار بنیادوں پر وسعت نہ دینا باعث تشویش ہے۔ سید نوید قمر نے گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کی سست رفتار اور مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے باعث بڑھتے ہوئے سماجی و معاشی دبائو پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔چیئرمین نے مزید کہا کہ بجٹ سٹریٹجی پیپر کی ترسیل میں تاخیر افسوسناک ہے، پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت وزارت خزانہ قانونی طور پر پابند ہے کہ بجٹ اجلاس سے قبل پارلیمانی جانچ پڑتال کو موثر بنانے کے لیے یہ دستاویز بروقت فراہم کرے۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے پاکستان کی معاشی صورت حال اور مالی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس میں ابھرتے ہوئے معاشی خطرات، آئی ایم ایف پروگرام کی کارکردگی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ماہرین نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 22.58 ارب ڈالر ہیں جو تقریباً 2.58 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی ریٹ اس وقت 11.5 فیصد ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں جون 2024ء سے اب تک مجموعی طور پر 1200 بیسز پوائنٹس کی کمی کی جا چکی ہے۔ ایف بی آر کی تیسری سہ ماہی کی ٹیکس وصولیاں 9.304 ٹریلین روپے رہیں جو ہدف سے 611 ارب روپے کم ہیں۔ پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ 83.28 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ بجلی اور گیس کے شعبوں میں گردشی قرض تقریباً 5 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران کمزور برآمدات اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ کر 32.19 ارب ڈالر ہو گیا ۔ دوسری جانب جولائی 2025ء تا اپریل 2026ء کے دوران ترسیلات زر 33.86 ارب ڈالر رہیں جبکہ مالی سال 2026ء کے اختتام تک ان کے 41.2 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ پاکستان اپنی تقریباً 90 فیصد توانائی درآمدات مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے جس کے باعث معیشت علاقائی جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے لیے انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگر خطے میں کو ئی طویل تنازع جاری رہا تو اس سے مہنگائی میں نمایاں اضافہ، کرنٹ اکائونٹ خسارے میں وسعت اور شرح مبادلہ پر دوبارہ دبائو پیدا ہو سکتا ہے۔ چیئرمین نے س امر پر زور دیا کہ پہلے سے دستاویزی معیشت اور ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے منصفانہ اور پائیدار اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ناگزیر ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے مشاہدہ کیا کہ صوبائی مالیاتی سرپلس غیر متناسب طور پر وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف اہداف کو سہارا دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی اخراجات مسلسل محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ موجودہ اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مزید برآں پاکستان کا برآمدی شعبہ علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں بدستور کمزور کارکردگی دکھا رہا ہے۔کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل رابطوں اور ٹیلی کام خدمات پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے ڈیجیٹل شمولیت، فری لانسنگ کے مواقع اور بالخصوص نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقات کی معاشی شرکت متاثر ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ ٹیکس کی شرحوں میں بار بار اضافے کے بجائے معیشت کو دستاویزی بنانا، موثر نفاذ اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اراکین نے غیر قانونی تجارت، جعلی مارکیٹوں اور غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ کمیٹی نے قابل تجدید توانائی، موسمیاتی تحفظ اور توانائی کے موثر استعمال کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔کمیٹی نے مزید زور دیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ محض قلیل مدتی معاشی استحکام تک محدود نہ رہے بلکہ اسے پائیدار معاشی اصلاحات، مالی شفافیت، بہتر طرز حکمرانی اور جامع ترقی کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم بنایا جائے۔ کمیٹی نے 14 مئی 2026ء کو ہونے والے اپنے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دے دی۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی شاہدہ بیگم،ڈاکٹر مرزاا ختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان ، ڈاکٹرنفیسہ شاہ، شرمیلا فاروقی اور وزارت خزانہ، ریونیو ڈویژن کے سینئر افسران اور آزاد ماہرین معاشیات نے شرکت کی۔