آئندہ دس برسوں میں 90 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا سی ایف ایم سی اے کے 15ویں وزارتی اجلاس سے خطاب

آئندہ دس برسوں میں 90 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا سی ایف ایم سی اے کے 15ویں وزارتی اجلاس سے خطاب

واشنگٹن ڈی سی ۔15اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ آئندہ دس برسوں میں 90 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بات عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار اجلاس 2026 کے تیسرے دن کوالیشن آف فنانس منسٹرز فار کلائمیٹ ایکشن (سی ایف ایم سی اے) کے 15ویں وزارتی اجلاس میں ”ماحولیاتی اقدامات کو ترقی، روزگار اور مسابقت کا ذریعہ بنانا” کے موضوع پر مبنی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی ماحولیاتی لچک میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کو فوری طور پر بین الاقوامی امداد حاصل کرنا پڑی جبکہ 2025 میں اسی نوعیت کی آفت کے وقت ملک نے اپنی وسائل سے ریلیف فراہم کیا جو گزشتہ عرصے میں مالیاتی استحکام میں بہتری کا مظہر ہے۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو ماحول دوست بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات کا ذکر کیا جن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ گرین ٹیکسونومی گائیڈ لائنز شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 8,000 میگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت موجود ہے اور آئندہ دس برسوں میں 90 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے ماحولیاتی مالیات کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون پر بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا اوراس ضمن میں خصوصاً آئی ایم ایف کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی اور عالمی بینک گروپ کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا ذکر کیا۔