شہباز ،زرداری ملاقات: ن لیگ کا پی پی کے لانگ مارچ کی حمایت کا فیصلہ

شہباز ،زرداری ملاقات: ن لیگ کا پی پی کے لانگ مارچ کی حمایت کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ ن نے پاکستان پیپلز پارٹی کے 27 فروری کو شروع ہونے والے لانگ مارچ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور ن لیگ پنجاب میں مارچ کا استقبال کرے گی۔

لیگی صدر شہباز شریف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کے لیے بلاول ہاؤس پہنچے، جہاں پر ان کے ساتھ رانا ثنااللہ، پارٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور مریم اورنگ زیب بھی شامل ہیں۔

بلاول ہاؤس پہنچنے پر سابق صدر آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، مخدوم احمد محمود، رخسانہ بنگش نے استقبال کیا۔

بعد ازاں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے مولانا اسعد الرحمان اور اکرم درانی بھی بلاول ہاؤس پہنچ گئے۔ آصف علی زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں کو عشائیے کی دعوت دی تھی۔

ذرائع کے مطابق بلاول ہاؤس لاہور میں لیگی وفد کے لیے پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا گیا، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے لیے خصوصی طور پر کشمیری دال چاول، مکھنی دال تیار کی گئی جبکہ شرکاء کے عشائیہ میں فش سوپ، مٹن بریانی، سندھی بریانی، گرل فش، بار بی کیو، افغانی پلاؤ، پالک پنیر، قورمہ شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق دیگر میں فش کباب، ویجیٹیبل کباب، مٹن قیمہ، چائنیز، پرائونز سوپ، سلاد، رائتہ، میٹھے میں دال کا حلوہ، گاجر کا حلوہ، پیٹھے کا حلوہ، کھیر، کسٹرڈ، سبز چائے شامل ہے۔

دوسری طرف آصف زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، ملاقات میں عدم اعتماد سمیت دیگر آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے حکومت کے 10 سے 15 ناراض ارکان کے استعفوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن عدم اعتماد کی بجائے وزیراعظم سے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کرے گی۔

پیپلز پارٹی نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ناراض حکومتی ارکان کے استعفے قبول نہ کئے تو اپوزیشن کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس وقت اپوزیشن کی سیاست اور ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، ہمیں بہت سوچ سمجھ کر حکومت کے خلاف فیصلہ کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان سے پہلے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد لانے کی تجویز دے دی۔ تاہم اس دوران مسلم لیگ ن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے پر بضد ہے۔

پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ سپیکر کو ہٹائے بغیر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، وزیراعظم کے خلاف اعتماد کے ووٹ کا بھی معاملہ ہوا تو بھی سپیکر اہم کردار ادا کر سکتا ہے، سب سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف میدان میں اترا جائے۔

ذرائع کے مطابق ن لیگ نے پیپلز پارٹی کی تجویز پارٹی قائد کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرا دی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کی حمایت کا فیصلہ کیا اور ن لیگ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کا استقبال کرے گی