پشاور:ملک میں متوقع 28ویں آئینی ترمیم کو روکنے کے لیے خیبر پختونخوا کی سیاست میں بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپوزیشن جماعتوں کو متبادل حکمتِ عملی پر راضی کرنے کے لیے سیاسی رابطے تیز کر دیے ہیں۔
نیونیوز پشاور بیوروچیف لحاظ علی کا کہنا ہے کہ ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مجوزہ ترمیم کا راستہ روکنے کے لیے ایک ہی ہفتے کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی سے 3 مرتبہ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اہم سیاسی رہنماؤں سے بھی تفصیلی مشاورت کی ہے۔
پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن جماعتوں سے ان تمام اہم ملاقاتوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کو بھی مکمل طور پر اعتماد میں لیا ہے۔