لاہور : پنجاب حکومت نے راشن کارڈ پروگرام میں مزید 50 ہزار مستحق افراد کو شامل کرنے اور صوبے بھر میں بھکاریوں کا جامع ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ان کی میپنگ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی مالی معاونت کے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق راشن کارڈ، ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے ذریعے اب تک 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران راشن کارڈ کے ذریعے تقریباً 14 لاکھ جبکہ ہمت کارڈ کے ذریعے 2 لاکھ سے زیادہ افراد کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راشن کارڈ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید بڑھاتے ہوئے 50 ہزار نئے افراد کو بھی شامل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ لاوارث بچوں کے لیے باقاعدہ یتیم خانے قائم کیے جائیں اور خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات کی صفائی اور سروسز کو بہتر بنانے کے لیے مستند این جی اوز کے ساتھ تعاون کی بھی ہدایت کی۔
مزید برآں اجلاس میں صنعت زار کی ری ویمپنگ میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے اور زکوٰۃ فنڈز سے ادویات کی فراہمی کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد عام شہریوں کی فلاح و بہبود ہے اور پنجاب کے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو یورپی طرز پر جدید اور عوام دوست بنایا جا رہا ہے، تاکہ محروم طبقات کی بہتر انداز میں مدد اور بحالی ممکن ہو سکے۔