لاھور (نمایندہ نوائے وقت ) سابق ممبر صوبائی اسمبلی ،جنرل سیکریڑی پنجاب و صدر پیپلز پارٹی لاھور حاجی عزیز الرحمن چن نے قائد عوام زوالفقار علی بھٹو شیہد کی برسی پر اظہار خیال کرتے ھوئے کہا
حاجی عزیز الرحمن چن 4 اپریل پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جو صرف ایک شخصیت کی برسی نہیں بلکہ ایک عہد، ایک سوچ اور ایک نظریے کی یاد دلاتا ہے۔ آج ہم ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی منا رہے ہیں۔وہ رہنما جس نے پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ دیا، عوام کو شعور دیا اور طاقت کے ایوانوں میں عام آدمی کی آواز بلند کی۔ ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ کے ایک بااثر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم University of California, Berkeley اور University of Oxford سے حاصل کی۔ وہ ذہانت، اعتماد اور غیر معمولی سیاسی بصیرت کے حامل تھے، جس نے انہیں جلد ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔
سیاسی سفر کا آغاز ایوب خان کے دور میں وزیر خارجہ کے طور پر ہوا، مگر 1965 کی جنگ کے بعد پالیسی اختلافات نے انہیں اقتدار سے علیحدہ کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بھٹو نے عوامی سیاست کا راستہ اختیار کیا اور 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ان کا نعرہ “روٹی، کپڑا اور مکان” آج بھی عوامی سیاست کی پہچان ہے۔
1970 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو نے ایک مشکل وقت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے 1973 کا متفقہ آئین دیا، جو آج بھی پاکستان کی ریاستی بنیاد ہے۔ اسلامی دنیا کو متحد کرنے کے لیے 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد بھی ان کی بڑی کامیابیوں میں شامل ہے۔
بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ کر پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی سمت قدم بڑھایا۔ انہوں نے مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کو آواز دی، لیکن ان کے دور میں بعض متنازع فیصلے اور سیاسی کشیدگیاں بھی سامنے آئیں۔
1977 میں جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں مارشل لا نافذ ہوا اور بھٹو کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ ان پر ایک متنازع مقدمہ چلایا گیا جسے دنیا بھر کے مبصرین نے انصاف کے تقاضوں کے برعکس قرار دیا۔ بالآخر 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی کی جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی—ایک ایسا فیصلہ جس پر آج بھی تاریخ سوال اٹھاتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت ایک مکمل داستان ہے—جرأت، بصیرت، عوامی محبت اور قربانی کی داستان۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ تھے، جو آج بھی زندہ ہے۔ ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے بھی اسی مشن کو آگے بڑھایا اور جمہوریت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
آج جب ہم بھٹو کی برسی منا رہے ہیں تو یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ کیا ہم نے ان کے خوابوں کا پاکستان بنایا؟ کیا عام آدمی کو وہ حقوق مل سکے جن کے لیے بھٹو نے جدوجہد کی؟
ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کا ایک باب نہیں، ایک زندہ حقیقت ہیں—اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔