کراچی:شہرِ قائد میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش اور ژالہ باری نے پورے شہر کو جھیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ بارش سے جڑے مختلف حادثات میں اب تک 4 افراد کے جاں بحق اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ شہر کا بنیادی انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے۔
بارش کے باعث شہر کی اہم ترین شاہراہیں بشمول شارع فیصل، لیاقت آباد، نیپا اور صدر تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ نرسری فرنیچر مارکیٹ سمیت کئی تجارتی علاقوں میں بارش کا پانی دکانوں میں داخل ہو گیا، جس سے لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی اشیاء اور فرنیچر برباد ہو گیا۔
شہر میں نالوں کی طغیانی کے باعث کئی مقامات پر پارک کی گئی گاڑیاں کھلے نالوں میں گر گئیں، جبکہ بائیکس بھی پانی کے تیز ریلوں میں بہہ گئیں۔ مختلف علاقوں میں درخت گرنے سے دو گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی بارش کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا؛ ارائیول ایریا کے قریب سیوریج کی لائن پھٹ گئی جبکہ جنرل ایوی ایشن ایریا میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا۔ ادھر شہر کے بیشتر علاقوں میں فیڈرز ٹرپ کر جانے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش ناظم آباد میں 69.9 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ دیگر علاقوں کی صورتحال درج ذیل رہی۔ کیماڑی: 56 ملی میٹر، سعدی ٹاؤن: 48 ملی میٹر، گلستانِ جوہر: 44.2 ملی میٹر۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے صوبہ بھر میں “رین ایمرجنسی” نافذ کر دی ہے۔ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے مختلف مقامات پر رین ایمرجنسی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔