گورنر پنجاب نے سٹامپ ڈیوٹی ترمیمی آرڈیننس 2026ء کی منظوری دیدی؛ دیہی علاقوں میں جائیداد کی خرید و فروخت اب مزید آسان

گورنر پنجاب نے سٹامپ ڈیوٹی ترمیمی آرڈیننس 2026ء کی منظوری دیدی؛ دیہی علاقوں میں جائیداد کی خرید و فروخت اب مزید آسان

لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے دیہی علاقوں میں جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے شہریوں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔ گورنر پنجاب نے سٹامپ ڈیوٹی ترمیمی آرڈیننس 2026ء پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد صوبے بھر میں جائیداد کی منتقلی کے ٹیکسز کا نیا اور سستا ڈھانچہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
نئے آرڈیننس کے تحت پنجاب کے دیہی علاقوں میں جائیداد کی منتقلی پر وصول کی جانے والی سٹامپ ڈیوٹی میں 2 فیصد کی نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل دیہی علاقوں کے مکین جائیداد کی رجسٹری پر 3 فیصد ڈیوٹی ادا کرنے کے پابند تھے، جسے اب کم کر کے صرف 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اس تاریخی فیصلے کے بعد پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان سٹامپ ڈیوٹی کا برسوں پرانا فرق ختم ہو گیا ہے۔ اب پورے صوبے میں جائیداد کی خرید و فروخت اور رجسٹری پر یکساں طور پر محض 1 فیصد سٹامپ ڈیوٹی وصول کی جائے گی، جس سے صوبے بھر کے عوام کو برابر کی سہولت میسر آئے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور عام آدمی پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ڈیوٹی کی شرح میں کمی سے شہری اپنی جائیدادیں قانونی طور پر رجسٹر کروانے کی طرف راغب ہوں گے، جس سے نہ صرف عوام کے اثاثے محفوظ ہوں گے بلکہ حکومتی ریونیو میں بھی اضافے کی توقع ہے۔    سابقہ ڈیوٹی (دیہی): 3 فیصد،     موجودہ ڈیوٹی (دیہی): 1 فیصد ہے۔    اطلاق پورے پنجاب میں یکساں شرح (1 فیصد) نافذ ہوگئی ہے۔