کوئٹہ میں مفت ٹرانسپورٹ اور دکانوں کی جلد بندی کا باقاعدہ اعلان

کوئٹہ میں مفت ٹرانسپورٹ اور دکانوں کی جلد بندی کا باقاعدہ اعلان

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوام کے لیے بڑے ریلیف پیکیج اور انتظامی اصلاحات کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کی وضاحت کی۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کوئٹہ کے شہری اب گرین بسوں میں ایک ماہ تک مفت سفر کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دے رہی ہیں تاکہ عوام پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں قسطوں پر لی ہیں، حکومت انہیں بھی سپورٹ فراہم کرے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے زراعت کو صوبے کی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی سطح پر زرعی شعبے میں خصوصی سبسڈی دی جائے گی۔ توانائی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ  توانائی بچت کے اقدامات کی بدولت اب تک حکومت 1 ارب 40 کروڑ روپے کی خطیر رقم بچانے میں کامیاب رہی ہے۔
تاجر برادری کے تعاون سے کوئٹہ میں کاروباری اوقات کار بھی طے کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت تمام دکانیں رات 8 بجے بند کر دی جائیں گی تاکہ بجلی کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے۔امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے پولیس کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو چیک پوسٹ پر بلاوجہ تنگ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کا کام صرف اور صرف دہشت گردی کی روک تھام کے لیے چیکنگ کرنا ہے، عام آدمی کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنا نہیں۔
وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بلوچستان بھی متاثر ہو رہا ہے، تاہم وزیراعظم کی ذاتی کاوشوں سے ملک میں تیل کی سپلائی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی سبسڈی میں صوبائی حکومت کے حصے ڈالنے کی بھی تصدیق کی۔