کوئٹہ: ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں، جنہیں ‘فتنہ الہندوستان’ کا نام دیا گیا ہے، بلوچ روایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اب خواتین اور معصوم بچوں کو خودکش حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کابل میں موجود دہشت گردوں کو افغان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
ترجمان بابر یوسفزئی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ‘فتنہ الہندوستان’ پہاڑوں سے نکل کر اب گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ دہشت گرد گروہ خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے بلوچ ثقافت کے مثبت چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے والدین کو سخت ہدایت کی کہ بیٹیوں کے رشتے جوڑنے سے پہلے خاندانوں کی مکمل چھان بین کریں۔ بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ انہیں ان مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اب اتنے بزدل ہو چکے ہیں کہ وہ معصوم بچیوں اور خواتین کو ورغلا کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔