سرکاری گاڑیوں کا ایندھن آدھا 50 فیصد عملے کا ورک فرام ہوم

سرکاری گاڑیوں کا ایندھن آدھا 50 فیصد عملے کا ورک فرام ہوم

پشاور: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دو ماہ کے لیے ہنگامی فیول بچت اقدامات نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سرکاری اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی منظوری دی گئی۔معاون خصوصی اطلاعات شفیع اللہ جان نے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ  سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام میٹنگز 100 فیصد آن لائن (ورچوئل) منعقد کریں۔
ایندھن کی بچت کے لیے جمعہ کے روز تعلیمی ادارے بند رکھنے اور ورچوئل کلاسز کو ترجیح دینے کی تجویز دی گئی ہے۔کابینہ نے حکمرانوں اور افسران کی مراعات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں مزید 25 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی کٹوتی 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
 وی آئی پی پروٹوکول، ہیلی کاپٹر کے غیر ضروری استعمال، سرکاری ڈنرز اور تقریبات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کٹوتیوں سے مستثنیٰ ہوں گے تاکہ سیکیورٹی متاثر نہ ہو۔صوبائی حکومت نے گندم کی کٹائی کے سیزن کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کو گندم کی کٹائی کے لیے ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ پیٹرول پمپس کی روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ توانائی بحران کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں سب سے پہلے حکمرانوں کو اپنی مراعات کم کرنی چاہئیں، پاکستان میں ہمیشہ عوام کو قربانی کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن ہم یہ رویہ تبدیل کر رہے ہیں۔