کراچی :کراچی کے معروف تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں لگنے والی آگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تحقیقات میں اہم موڑ آگیا ہے۔ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے ہلاکتوں کا ذمہ دار ریسکیو اداروں کے ناقص اور سست انتظامات کو قرار دیتے ہوئے اپنا باقاعدہ بیان جمع کرا دیا ہے۔
تنویر پاستا نے کمیشن کے سوالنامے کا جواب دیتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق امدادی کارروائی کے آغاز کے محض 20 منٹ کے اندر ہی فائر ٹینڈر کا پانی ختم ہو گیا، جس سے آگ بجھانے کا عمل معطل ہو گیا۔ پہلی گاڑی کے بعد مزید دو فائر ٹینڈرز رات ساڑھے گیارہ بجے پہنچے، جب کہ آگ پہلے ہی بے قابو ہو چکی تھی۔
صدر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ امداد میں تاخیر کے باعث آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل گئی، جس نے پورٹ پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تنویر پاستا نے اپنے بیان میں دو ٹوک موقف اپنایا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں سستی ہی ہلاکتوں کی اصل وجہ بنی۔ انہوں نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ فائر بریگیڈ اور متعلقہ اداروں کی غفلت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے جن کی وجہ سے تاجروں کا اربوں کا مال اور انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
تحقیقاتی کمیشن نے صدر ایسوسی ایشن کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ریسکیو حکام کو بھی جواب دہی کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بیان کے بعد انتظامیہ اور امدادی اداروں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔